عمر نہیں کھیل دیکھیں، حفیظ کا ناقدین کو مشورہ

Spread the love

کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے 40 سالہ محمد حفیظ نے کہاکہ جب لوگ میری عمر زیادہ ہوجانے کی بات کرتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے، بہرحال ان کی رائے کا احترام ہے مگر میں اس تاثر کو میدان میں اپنی پرفارمنس سے تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہوں،میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اس میں کامیابی بھی ملتی ہے،خاص طور پر گذشتہ سال کارکردگی دکھانے کے بیشتر مواقع سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوا، فٹنس ایسی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ جونیئرز کو چیلنج کرسکوں۔ انھوں نے کہا کہ جدید کرکٹ میں پاور ہٹنگ کا اہم کردار ہے،آپ اس معاملے میں ناکام ہوں تو پیچھے رہ جائیں گے، میں خوش ہوں کہ اپنی پریکٹس اور کھیلنے کے انداز میں جو تبدیلیاں کیں وہ کارگر ثابت ہوئیں اور میرے کھیل میں نکھار آیا،واضح سوچ اور پورے اعتماد کے ساتھ میدان میں اترتے ہوئے گیم پلان کے مطابق کارکردگی دکھانے میں کامیاب بھی ہوتا ہوں۔قرنطینہ پر ڈیڈلاک کی وجہ سے جنوبی افریقہ کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلیے منتخب نہ ہونے کے سوال پر حفیظ نے کہا کہ مجھے اس کا کافی دکھ ہوا تھا مگر اب یہ بات ماضی کا حصہ بن چکی،امید ہے کہ اس نوعیت کی غلط فہمی دوبارہ نہیں ہوگی،میں جب تک ممکن ہے پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، خواہش ہے کہ گرین شرٹس رواں سال ورلڈکپ جیتیں اور میں اس اسکواڈ کا حصہ بننے کا اعزاز حاصل کروں۔انھوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کا پی ایس ایل 6کے آغاز میں ہی فتوحات کی راہ پر گامزن ہونا خوش آئند ہے،گذشتہ سیزن کے اسکواڈ میں سے بیشتر اہم کرکٹرز کو برقرار رکھنے کی وجہ سے ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، فتوحات کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، کسی سہل پسندی کا شکار نہیں ہوسکتے،مزید محنت کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا۔محمد حفیظ نے کہا ہے کہ میچ کے بعدکرس گیل میری کارکردگی اور بیٹ کی تعریف کر رہے تھے،ان سے میدان کے اندر اور باہر اچھے مراسم رہے ہیں،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیخلاف اننگز کھیلی تو کرس گیل میرے بیٹ کی کوالٹی سے متاثر تھے جس کی تعریف کرنے لگے، میں نے ان کو بتایا کہ میرے مسلز آپ کی طرح مضبوط نہیں ہیں، اس لیے جارحانہ اسٹروکس کھیلنے کیلیے اچھے بیٹ کی ضرورت ہوتی ہے،وہ میریپرفارمنس پر خوش تھے اور اسے سراہا۔محمد حفیظ نے محمد نواز کی آل راؤنڈ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دے دیا،انھوں نے کہا کہ ماضی میں عبدالرزاق اور شاہد آفریدی جیسے آل راؤنڈرز کسی نہ کسی انداز میں ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، فہیم اشرف کی بیٹنگ میں بہتری آئی مگر بولنگ میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،محمدنواز بیٹ اور بال سے عمدہ پرفارم کررہے ہیں، ان کو مواقع دینے چاہئیں،حسن علی کو فی الحال آل راؤنڈر نہیں کہا جا سکتا مگر میچ وننگ بولر کے طور پر ان کی ٹیم میں واپسی پر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے۔محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر محمد رضوان کی تعریف پر ردعمل سے مایوسی ہوئی،میں ایک سینئر کرکٹر ہوں، کوئی بھی جونیئر پاکستان کیلیے پرفارم کرے تو اس کی ستائش کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھوں گا،میں نے محمد رضوان کا کسی کے ساتھ موازنہ نہیں کیا تھا،بدقسمتی سے میڈیا اور سوشل میڈیا میں ایسا ماحول بن گیا،مجھے یقین ہے کہ سرفراز احمد بھی اصل صورتحال کو سمجھتے ہوں گے، وکٹ کیپر بیٹسمین جانتے ہیں کہ میں ہمیشہ ان کی کامیابی کیلیے دعاکرتا ہوں۔میچ کے دوران سرفراز احمد کی جانب سے ہاتھ نہ ملانے یا راستہ دینے کی ویڈیوز سامنے آنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے ہیں،ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں