عمران خان کی ایما پر شہباز گل کواسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں

Spread the love

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے شہباز گل کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے کے واضح عدالتی حکم پر عملدرآمد رکوادیا جس کے باعث صوبہ پنجاب اور وفاقی پولیس میں محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی جبکہ شہباز گل کو ڈی ایچ کیو (ڈسٹرک ہیڈکواٹر اسپتال) پنڈی منتقل کیے جانے تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔

شہباز گل کو اڈیالہ جیل سے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں کم و بیش مکمل ہوگئی ہے اور ڈی ایچ کیو اسپتال میں سیکورٹی سخت کر دی گئی اور پولیس کی بھاری نفری اسپتال پہنچ گئی ہے۔

علاوہ ازیں ہسپتال میں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا اور پولیس نے ہسپتال آنے اور جانیوالے شہریوں کو روک دیا گیا۔

شہباز گل کو جی ایچ کیو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے میڈیکل آفیسر اڈیالہ کی درخواست پر مراسلہ لکھ دیا کہ جس میں شہباز گل کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق شہباز گل کو سانس لینے میں دشواری ہے، اور انہیں کچھ دنوں سے کھانسی اور سانس میں دشواری کا مسئلہ ہے، شہباز گل کی طعبیت دیکھتے ہوئے اڈیالہ جیل ہسپتال رکھا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق شہباز گل کا آکسیجن لیول 84، بلڈ پریشر 100/70 ہے جبکہ ان کو ایمرجنسی ہسپتال شفٹنگ کی ضرورت ہے اور انہیں جیل سے ڈی ایچ کیو منتقلی کے لیے اضافی نفری درکار ہے۔

شہباز گل کو دو روزہ ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس حوالگی کا معاملہ شدت اختیار کرگیا

ذرائع کے مطابق شہباز گل کو دو روزہ ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس حوالگی کا معاملہ شدت اختیار گیا اور اڈیالہ جیل انتظامیہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شہباز گل کو لینے کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سمیت ڈی ایس پی خالد اعوان و اسلام آباد پولیس ٹیم 2 گھنٹے سے اڈیالہ جیل میں موجود ہے تاہم ابھی تک شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کھل کر میدان میں آگئے اور شہبازگل کی روبکار جاری کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد پنجاب کے چیف سیکرٹری، آئی جی جیل خانہ جات مصیبت میں پھنس گئے اور انہوں نے عدالت اور قانون کے خلاف احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔

علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم اور سیکرٹری صحت پنجاب کو شہبازگل پر “فیوریبل رپورٹ” تیار کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے حکم دیا کہ رپورٹ کا پیٹ بھریں، شہبازگل مجھے ہسپتال میں منتقل چاہئے۔ جس پر پنجاب کی اعلی بیوروکریسی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ واضح عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں