وفاقی کابینہ نے ہفتے کی چھٹی بحال کردی، سرکاری فیول میں 40 فیصد کٹوتی کی منظوری

Spread the love

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ہفتے کی چھٹی بحال کردی، بازاروں کی جلد بندش سے متعلق سب کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ سرکاری فیول میں 40 فیصد کٹوتی کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جار ی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بجلی کی بچت کیلیے ہفتے میں دو سرکاری تعطیلات کرنے کا اصولی فیصلہ کیا جس کی کابینہ نے منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بازاروں کے اوقات میں تبدیلی کی منظوری دیئے جانے کا امکان ہے۔ بازاروں کے نئے اوقات کار کے تحت دن کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی تجویز ہے۔
اجلاس میں سرکاری فیول میں کٹوتی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس پر کابینہ نے سرکاری ملازمین کے فیول میں 40 فیصد کٹوتی کی منظوری دے دی۔

وزیر اطلاعات کی میڈیا بریفنگ
کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا کو مشترکہ بریفنگ دی۔ ان کے ساتھ قمر الزمان کائرہ، امین الحق اور مولانا اسعد بھی موجود تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کو ملک میں بجلی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، ملک کو غیر معمولی ہیٹ ویو کا سامنا ہے، بجلی کی 28400 میگاواٹ کی طلب ہے، بجلی کی طلب اور رسد میں 4600 میگاواٹ کا فرق ہے، مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور میں 2018ء میں 14000 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی جب کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کے منصوبے نامکمل رہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت میں بجلی کی طلب کے مسئلے کو احسن انداز سے حل کیا، بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی حکومت نے بجلی کے منصوبوں پر توجہ نہیں دی، وزیراعظم نے گزشتہ دو روز سے لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے کے حوالے سے اجلاس کیے۔

انہوں نے کہا کہ 15 جون تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ساڑھے 3 گھنٹے ہوگا، 15 جون کے بعد مزید پلانٹس کے چلنے سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تین گھنٹے ہوجائے گا، 25 سے 29 جون تک لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے رہ جائے گا، 30 جون کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ 2 گھنٹے رہ جائے گی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ نے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی، وزیراعظم نے کابینہ ارکان اور حکومتی ارکان کا پٹرول کوٹا 40 فیصد کم کر دیا ہے، کابینہ کو پٹرولیم کوٹا میں حکومتی اہل کاروں کے لیے 33 فیصد کمی کی تجویز دی گئی تھی۔

انہوں ںے کہا کہ ہفتے کی چھٹی بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کی کابینہ نے منظوری دے دی، ہفتے کی چھٹی سے سالانہ 386 ملین ڈالر کی بچت ہوگی، جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی تجویز آئی ہے وزیراعظم نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی تجویز کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی۔

بازار رات میں جلد بند ہونے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ ہوگی جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ بھی موجود ہوں گے ان کے ساتھ یعنی صوبوں کے ساتھ مل کر بات چیت کے بعد بازار جلد بند کرانے کے معاملے کا اعلان کیا جائے گا اس سے قبل تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ سرکاری میٹنگز زیادہ سے زیادہ ورچوئل ہوں، غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں، حکومت نے سرکاری استعمال میں ہر طرح کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگا دی ہے، کابینہ نے سرکاری حکام کے بیرون ملک علاج و معالجے پر بھی پابندی لگا دی ہے، جتنے فیصلے کابینہ میں کیے گئے ہیں ان پر آج سے عمل شروع ہوجائے گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے اجلاس میں بات کی گئی، اجلاس میں ڈسکہ الیکشن پر الیکشن کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں کابینہ اراکان نے تشویش کا اظہار کیا، لوئر اسٹاف پر انتخابات میں گڑبڑ کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے اور یہ لوگ ابھی تک اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں، اس واقعے میں الیکشن کمیشن کا عملہ اغوا ہوگیا تھا، بیلٹ بکس چوری ہوگئے تھے، ڈسکہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اس پر انکوائری کرکے اگر ذمہ داروں کو سزا نہ ملی تو آٗئندہ انتخابات کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں