آسانیاں

امجد اسلام امجد
آسانی کا لفظ ہماری زندگی اور اُس کے رویوں سے جس طرح سے جُڑا ہوا ہے بہت کم لفظ اُس کے مقابلے میں رکھے جاسکتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں تصوف کے حوالے سے جو اس کے استعمال میں رنگا رنگی پیدا ہوئی ہے وہ بھی کسی استثنا سے کم نہیں کہ دعائیہ کلمات میں اس لفظ کا استعمال ان دنوں شائد سب سے زیادہ ہورہا ہو بالخصوص اشفاق احمد مرحوم کے حوالے سے یہ دعا کہ ’’خدا آپ کو آسانیاں عطا کرے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘‘ تو بہت ہی زیادہ مقبول ہوئی ہے اور اس لفظ کی بہت سی ایسی جہتیں سامنے آئی ہیں جو اس سے پہلے شاذو نادر ہی استعمال میں آتی تھیں۔
گزشتہ دنوں ہمارے دوست شفیق عباسی نے اسی حوالے سے ایک تحریر واٹس ایپ کی جو مجھے بہت اچھی لگی ( وہ یوں بھی کم و بیش روزانہ کوئی نہ کوئی ا چھی، دلچسپ اور معنی خیزبات دوستوں کے گروپ میں باقاعدگی سے شیئر کرتے ہیں) لیکن ’’آسانی‘‘ کی یہ کہانی اپنی مثال آپ ہے مگر اس کے ذکر سے پہلے میں اصغر گونڈوی مرحوم کا ایک شعر ضرور شیئر کرنا چاہوں گا کہ میرے نزدیک یہ اگر اس لفظ کا بہترین نہیں تو بہت ہی اچھا استعمال ضرور ہے، انھوں نے کہا تھا۔
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی ، دشوارہوجائے
اب آیئے !دیکھتے ہیں شفیق عباسی کیا کہتے ہیں اور کیسے کہتے ہیں۔ ’’ایک نوجوان نے درویش سے دعا کرنے کو کہا۔ درویش نے نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے جذب سے دعا دی، ’’اللہ تمہیں آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے‘‘
دعا لینے والے نے حیرت سے کہا ’’حضرت الحمد للہ ہم مال پاک کرنے کے لیے ہر سال وقت پر زکوٰۃ نکالتے ہیں بلاؤں کو ٹالنے کے لیے حسبِ ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں… اس کے علاوہ ملازمین کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں ، ہمارے کام والی کا ایک بچہ ہے جس کی تعلیم کا خرچہ بھی ہم نے اُٹھا رکھاہے اللہ کی توفیق سے ہم تو کافی آسانیاں بانٹتے ہیں۔ درویش تھوڑا سا مسکرایا اور بڑے دھیمے اورمیٹھے لہجے میں بولا’’میرے بچے یہ تو سب رزق کی مختلف قسمیں ہیں اور یاد رکھو رزاق اور الرازق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تم یا کوئی اور انسان یا کوئی اور مخلوق نہیں ، تم جو کر رہے ہو اگر یہ سب کرنا چھوڑ بھی دو تو اللہ تعالیٰ کی ذات یہ سب فقط ایک ساعت میں سب کو عطا کر سکتی ہے اگر تم یہ کر رہے ہو تو اپنے اشرف المخلوقات ہونے کی ذمے داری ادا کر رہے ہو، میرے بچے آؤ میں تمہیں سمجھاؤں کہ آسانیاں بانٹنا کسے کہتے ہیں ۔
٭کبھی کسی اُداس اور مایوس انسان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر، پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر ایک گھنٹہ اس کی لمبی اور بے مقصد بات سننا ، آسانی ہے۔
٭اپنی ضمانت پر کسی بیوہ کی جوان بیٹی کے رشتے کے لیے سنجیدگی سے تگ و دو کرنا آسانی ہے۔
٭ صبح دفتر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کسی یتیم بچے کی اسکول لے جانے کی ذمے داری لینا آسانی ہے ۔
٭اگر تم کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہو تو خودکو سسرال میں خاص اور افضل نہ سمجھنا یہ بھی آسانی ہے ۔
٭غصے میں بپھرے کسی آدمی کی کڑوی کسیلی اور غلط بات کو نرمی سے برداشت کرنا،یہ بھی آسانی ہے۔
٭چائے کے کھوکھے والے کو اوئے کہہ کر بلانے کے بجائے بھائی یا بیٹا کہہ کر بلانا، یہ بھی آسانی ہے۔
٭گلی محلے میں ٹھیلے والے سے بحث مباحثے سے بچ کرخریداری کرنا یہ بھی آسانی ہے ۔
٭تمہارا اپنے دفتر، مارکیٹ یا فیکٹری کے چوکیدار اور چھوٹے ملازمین کو سلام میں پہل کرنا دوستوں کی طرح گرم جوشی سے ملنا کچھ دیر رُک کر اُن سے اُن کے بچوں کے حال پوچھنا ، یہ بھی آسانی ہے۔
٭اسپتال میں اپنے مریض کے برابر والے بستر کے انجان مریض کے پاس بیٹھ کر اُس کا حال پوچھنا اور اسے تسلی دینا یہ بھی آسانی ہے ۔
٭ ٹریفک اشارے پر تمہاری گاڑی کے آگے کھڑے شخص کوہارن نہ دینا جس کی موٹر سائیکل بند ہوگئی ہو ، سمجھو تو یہ بھی آسانی ہے ۔
درویش نے حیرت میں ڈوبے نوجوان کو شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے دوبارہ متوجہ کرتے ہوئے کہا ’’بیٹا ہم آسانی پھیلانے کا کام گھر سے کیوں نہیں شروع کرتے؟
٭آج واپس جاکر باہر دروازے کی گھنٹی صرف ایک مرتبہ دے کر دروازہ کھلنے تک انتظار کرنا ۔
٭آج سے باپ کی ڈانٹ ایسے سننا جیسے موبائل پر گانے سنتے ہو۔
٭ آج سے ماں کی پہلی آواز پر جہاں کہیں ہو فوراً اُن کے پاس پہنچ جایا کرنا۔
٭بہن کی ضرورت، اُس کے تقاضا اور شکایت سے پہلے پوری کردیا کرو۔
٭آیندہ سے بیوی کی غلطی پر سب کے سامنے اُسے ڈانٹ ڈپٹ مت کرنا۔
٭سالن اچھا نہ لگے تو دستر خوان پر حرفِ شکایت بلند نہ کرنا۔
٭ کبھی کپڑے ٹھیک نہ ہوں تو خود استری درست کردینا۔
میرے بیٹے ایک بات یاد رکھنا زندگی تمہاری محتاج نہیں،تم زندگی کے محتاج ہو منزل کی فکر چھوڑو اپنا اور دوسروںکا راستہ آسان بناؤ ان شاء اللہ منزل خود ہی مل جائے گی ۔
اب مزے کی بات یہ ہے کہ شفیق عباسی صاحب نے اپنی اس فہرست میں کچھ ایسی آسانیوں کو بھی شامل کیا ہے جو شائد کسی بھی شکل میں مشکل تھیں ہی نہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آسانی پیدا کرنے کا تعلق کسی صورت حال سے کم اور رویے سے زیادہ ہے اور اصل میں اس طرح کی مشکل صرف غالبؔ کے اس شعر کی حد تک ہوتی ہے کہ
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل، وگر، نہ گوئم مشکل
ہم عمومی طور پر اپنے معاشرتی رویوں میں کس قدر مشکل پسند اور تنگ دل ہوگئے ہیں اس کوسمجھنے کے لیے مندرجہ بالا کچھ آسانیوں اور ان کے پیدا کرنے اور پھیلانے کی ضرورت کو سمجھنا بہت ضروری ہے، سو اسی بات کو ایک بار پھر اشفاق صاحب کو یاد کرتے ہوئے اسی دعا پر ختم کرتے ہیں کہ خدا ہم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور ان آسانیوں کو تقسیم کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے، (آمین)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں