پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے پاکستان میں چار کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط

Spread the love

اسلام آباد ( ثاقب علی)مریکہ نے آج اسلام آباد میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ( یو ایس ایڈ) کی جانب سے منعقدکی جانے والی ” پاکستان میں سرمایہ کاری کریں” کانفرنس میں اعلان کیا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد امریکیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اپنے آبائی مُلک میں چار کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کی سرمایہ کاری کریں۔ اس ضمن میں امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے چار شراکت داروں نے یو ایس ایڈ کے ساتھ چار نئی مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط کیے، جن کے تحت پاکستان میں چار کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس کے بعد امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا عزم لگ بھگ بیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ نئی سرمایہ کاری کی تفصیلات کے مطابق سرونز لمیٹڈ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ذرائع روزگار کی بحالی کے لیے پچاس لاکھ ڈالر خرچ کرے گی ، پاک فوڈز لمیٹڈ کمپنی گروپ اور نسٹ کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبہ میں نوے لاکھ ڈالر کی شراکت سے کام کیا جائے گا، جز ویری انویسٹمنٹ کارپوریشن کی جانب سے پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقامی طور پر تیاری پر دو کروڑ پچاس لاکھ ڈالر خرچ کیے جائیں گے، اور گلوبل سیمی کنڈکٹر گروپ نوجوانوں کو سیمی کنڈکٹر اورچپ ڈیزائن ٹیکنالوجی میں تربیت پر پچاس لاکھ ڈالر خرچ کرے گا۔
مفاہمتی یاداشتوں کی تقریب سے خطاب میں پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم نے یو ایس پاکستان ڈائسپورا کے قابل قدر کردار کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں سرونز لمیٹڈ، پاک فوڈز،جزویری اور گلوبل سیمی کنڈکٹر کو مبارک با دپیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی ادارے پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے امکانات کو دریافت کر رہے ہیں اور وہ پُر امید ہیں کہ یہ شراکت داریاں پاکستان کی معیشت اور لوگوں کے لیے ثمرآور ثابت گی۔ آج کی کانفرنس میں زیر غور آنے والے تین موضوعات مصنوعی ذہانت ، برقی گاڑیاں اور سیمی کنڈکٹرٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحال مستقبل کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔
واضح رہے کہ ” پاکستان میں سرمایہ کاری کریں” کانفرنس کا مقصد امریکی سرمایہ کاروں اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان سرمایہ کاری کو مہمیز دینا تھا ۔ اس کانفرنس کے شرکاء کی تعداد تین سوسے زیادہ تھی جن میں پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم، یو ایس ایڈ کی مشن ڈائریکٹر کیٹ سوم وونگسری، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی عمر سیف، پاکستانی نژاد امریکی شہریوں اورپاکستان کی نمایاں کاروباری شخصیات شامل تھیں۔
یہ کانفرنس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کاوشوں کے سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ گزشتہ دس ماہ کے دوران پاکستان میں امریکی مشن نے یو ایس پاکستان ڈائسپورا کی سربراہی میں پاکستان میں لگ بھگ بیس کروڑ ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری اور عطیات کے بہاؤ میں معاونت کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں