پانچ اگست ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ اورسیز پاکستانی

Spread the love

پیرس(ثاقب علی) لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے گزشتہ روز یوم استحصال کشمیر منا یا،پانچ اگست 2019 کوہندوستان نے آرٹیکل 370 اور 35کو ختم کرتے ہوے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ہندوستان کے اس اقدام پردنیا بھر میں بسنے والے کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ایفل ٹاور کے سامنے پاکستانی اور کشمیریوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں شرکاء کی بڑی تعداد موجود تھی، شرکاء کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسکی ڈیموگرافی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ریلی میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سمیت تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے گارڈز اٹھا رکھے ہیں جن پر بھارت مخالف اور کشمیریوں کے حق میں نعرے درج ہیں۔پانچ اگست ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔کشمیریوں کو بھارت کی جانب سے تین سال میں جس استحصال کا سامنا کرنا پڑا اسکی مثال نہیں ملتی۔ آج تمام سیاسی جماعتوں کا یکجا ہو کر یہ احتجاج ثابت کر رہا ہے کہ ہندوستان جتنا مرضی جبر کر لے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا شرکاء۔ رہنما تحریک انصاف فرانس زاہد ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کوٹلی جلسے میں کہا کہ ہم پہلے کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوایں گے پھر کشمیری اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔پاکستان کے عوام اور ریاست کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہر مشکل گھڑی میں ہماری حمایت کی۔ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو انکا حق دو ورنہ ہندوستان ٹوٹ جاے گا۔ رہنما مسلم لیگ ن راجہ اشفاق کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن ہے ۔ہندوستان کی کوشش ہے کہ ہماری درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا ئیں ۔اس معاملہ میں ہم سب کو یاد رکھنا ہوگا کہ ہندوستان ہمارا اولین دشمن ہے جو ہمارے درمیان نفاق پیدا کرنا چاہتا ہے۔ہندوستان سوشل میڈیا کے ذریعے سنگین پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے تاکہ ہمیں آپس میں لڑایا جا سکے۔ ہمیں دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر دشمن کے پروپیگنڈے کو بغیر تصدیق آگے نہ بڑھائیں ۔ رہنما تحریک انصاف فرانس عمران رشید چوہدری کا کہنا تھا کہ اسوقت دشمن ففتھ جنریشن وار فیر کے ذریعے ہم پر حملہ آور ہے۔ بھارت نے آبادی میں تناسب کی تبدیلی کیلئے پانچ اگست کا اقدام کیا۔بھارت شہری اب کشمیر میں ووٹر بن سکتے ہیں زمین لے سکتے ہیں ۔پانچ اگست کے اقدام کو پاکستان نے اپنے اوپر حملہ تصور کیا۔کشمیر کے معاملے کو اور فعال انداز سے اجاگر کرنا ہوگا ۔ اس مدعے پر پاکستان پارلیمنٹ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔بھارت پروپیگنڈے کے سہارے کشمیر کے معاملے کو دنیا میں دبانا چاہتا ہے۔بھارت نے 5 اگست 2019 کو ایک ایسا قدم اٹھایا جو نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف تھا بلکہ ہندوستان کی اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حوالے سے کیے گئے وعدہ کے بھی خلاف ہے – مودی سرکار کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے ریاست جموں و کشمیر غیر قانونی طریقے سے بھارتی وفاق کے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی ہے – بھارت کے 5 اگست کے اقدام کا مقصد مقبوضہ وادی میں بائیو ڈیمو گرافی تبدیل کرنا ہے ۔ کشمیر ناقابل تقسیم خطہ ہے ،اس کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔سردار ظہور اقبال کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت اب تک بہت بڑی تعداد میں غیر ریاستی افراد کو کشمیر کا ڈومیسائل جاری کر چکا ہے،جس کا مقصد استصواب رائے پر اثرانداز ہونا ہے۔ بھارت نے کشمیر کو عملا جیل میں تبدیل کر رکھا ہے ، جبر و استبداد، جبری گمشدگیاں، جعلی فوجی مقابلے تحریک آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے ۔ طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کی آواز دبانے میں ناکامی کے بعد اب مودی سرکار کشمیر میں بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے عوام کی رائے بدلنے کی کوشش کر رہی،مگر کشمیری ایسے تمام ہتھکنڈوں کو مسترد کر رہے۔ آصفہ ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیس کیمپ کی حکومت اور عوام اپنے مظلوم و محکوم کشمیری عوام کیساتھ ہے ، دونوں اطراف کے کشمیریوں کی آواز صرف پاکستان ہے ۔کشمیریوں نے آج تک ہندوستان کے جبر کو تسلیم نہیں کیا۔بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور ہندوستان کو باز رکھے۔ پاکستان کی قومی قیادت مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے اپنے اختلافات بھلا کر ایک آواز بنیں۔ کشمیری بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اورسیز کشمیری و پاکستانی آپ کی آواز کو بھرپور انداز میں بلند کرتے رہیں گے ۔اب وہ دن دور نہیں جب سرینگر کے لال چوک میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہونگے۔ سردار ذوالفقار کا کہنا تھا کہ
آج ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی و مظاہرہ کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ اس سے زیادہ مانگتا ہے جو ہم کر رہے ہیں۔من حیث القوم ہمیں بار بار تجدید کرنا چاہیے کہ کشمیر کے ساتھ ہمارا عزم لازوال ہے۔اس عزم میں کبھی کمی واقع نہیں ہو گی۔پاکستان کے حالات کبھی ہمارے عزم پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔ مرزا آصف جرال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کاز ایک رستا ہوا زخم ہے جو مرہم مانگتا ہے۔وہ مرہم پاکستانی عوام کا عزم ہے جس کا اظہار ہر جگہ ہونا چاہیے۔عزم کے اس اظہار کو صرف ایک مرتبہ کسی جگہ کی بجاے ہر جگہ وقفے وقفے سے ہونا چاہیے۔ہماری افواج نے کشمیر کاز کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔ آج پوری دنیا میں مقیم کشمیری اور پاکستانی پانچ اگست کے ہندوستان کے اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ہندوستان نے دنیا کے تمام قوانین کوماننے سے انکار کر دیا اور نو لاکھ درندہ فوج کو مقبوضہ کشمیر پر ظلم وستم کے لیے چھوڑ دیا۔ ذوالفقار نگیال نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔ہندوستان کا مظالم کے باوجود کشمیری بھرپور احتجاج کر رہے ہیں۔ جنگ عظیم دوئم نے ہتھاروں کی جنگ کو مسترد کر دیا تھا اور غرور کو خاک کر دیا۔پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پیرا ہے۔ لیکن ہندوستان کی ہندتوا سوچ ان سے انحراف کر رہی ہے۔ شبانہ چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی اور کشمیری یہ یقین رکھتے ہیں کہ کشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے۔کشمیر کے تمام جغرافیای راستے پاکستان سے ملتے ہیں۔ہندوستان کے تمام پیکجز کو کشمیریوں نے مسترد کر دیا ہے۔ کشمیری ہندوستان کے تمام پیکجز کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام عالم آگے آئیں اور ریفرنڈم کروائیں۔کشمیری حسین ؓ کے راستے پر چلنے والے ہیں۔ ہندوستان کو بتانا چاہتاہوں کہ مسلمان جب اٹھ کھڑا ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسکا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہندوستان ہماری غیرت اور ایمان کو چیلنج نہ کرے۔ آج کشمیریوں نے ثابت کر دیا کہ وہ جھکنے والے نہیں ہیں۔ سردار اخلاق کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کو یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کا جو یقین آپ پر باقی ہے اسے برقرار رکھے اور کشمیریوں کو انکا حق دلوائے۔ہم کشمیر بنےگا پاکستان کا نعرہ لگانے والےہیں۔اگر ہندوستان باز نہ آیا تو اسکے کی آزاد ریاستیں بن جایں گے۔ ہندوستان کی سیکولرالز کا بھانڈا کشمیریوں نے پھوڑ دیا ہے۔ مظاہرے سے خطاب کرنے والوں میں حافظ طاہر گورایہ انعام اللہ خان راجہ کرامت شامل تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں