ابھی ٹینکوں کے آگے لیٹنے کی ضرورت نہیں ہے، عمران خان کا کارکنوں کو جواب

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد میں ’تاریخ‘ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ابھی ٹینکوں کے آگے لیٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام آباد میں ورکرز کنونشن سے دوران خطاب ایک موقع پر ایک کارکن نے بلند آواز میں چیئرمین پی ٹی آئی کو مخاطب کرکے کہا کہ ’خان صاحب ہم ٹینکوں کے آگے بھی لیٹ جائیں گے، آپ حکم کریں‘ جس پر سابق وزیراعظم نے جواب دیا کہ ’ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے اس وقت ہمیں اپنی قوم کی خواتین اور نوجوانوں کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ 30 برس سے چوری کرنے والوں کو ہمارے اوپر مسلط کردیا گیا اور جس نے مسلط کیا وہ انہیں ہمارے حق میں اچھے فیصلے کرنے کے لیے نہیں لائے بلکہ ہمیں اپنی غلامی کے لیے لے کر آئے ہیں۔ عمران خان نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو ماتحت کرنے کے بعد نیب ترامیم کر کے 1100 ارب روپے ختم کردیے، موجودہ حکومت نے اقتدار پر اپنے پنجے گاڑھنے کے ساتھ ہی کرپشن کے کیسز اور نیب ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ ملک میں تاریخی مہنگائی ہے، ہر طرف اشیا کی قیمتیں غیرمعمولی بڑھ گئی ہیں اور معیشت زمین بوس ہے اور ابھی اور مہنگائی ہوگی۔ سابق وزیر اعظم نے سوال اٹھایا کہ ’کیا وجہ تھی کہ ہماری حکومت کو گرا کر آزمودہ چوروں کو بٹھایا اور آج لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان قرضوں کی قسطیں واپس نہیں کر پائے گا اور ڈیفالٹ ہوجائے گا، موجودہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پیر پڑے ہوئے ہیں اور ان کی ایما پر مہنگائی کے لیے حامی بھر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خواتین اور دیگر کارکن لوگوں کے دروازوں پر جا کر دستخط دیں اور انہیں بتائیں کہ ہمارے لیے گھروں سے نکلنا کتنا اہم ہے، لوگوں کو آگاہ کریں کہ یہ ذمہ داری صرف عمران خان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔
Spread the love

اسلام آباد(ثاقب علی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد میں ’تاریخ‘ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ابھی ٹینکوں کے آگے لیٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسلام آباد میں ورکرز کنونشن سے دوران خطاب ایک موقع پر ایک کارکن نے بلند آواز میں چیئرمین پی ٹی آئی کو مخاطب کرکے کہا کہ ’خان صاحب ہم ٹینکوں کے آگے بھی لیٹ جائیں گے، آپ حکم کریں‘ جس پر سابق وزیراعظم نے جواب دیا کہ ’ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے اس وقت ہمیں اپنی قوم کی خواتین اور نوجوانوں کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ 30 برس سے چوری کرنے والوں کو ہمارے اوپر مسلط کردیا گیا اور جس نے مسلط کیا وہ انہیں ہمارے حق میں اچھے فیصلے کرنے کے لیے نہیں لائے بلکہ ہمیں اپنی غلامی کے لیے لے کر آئے ہیں۔
عمران خان نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو ماتحت کرنے کے بعد نیب ترامیم کر کے 1100 ارب روپے ختم کردیے، موجودہ حکومت نے اقتدار پر اپنے پنجے گاڑھنے کے ساتھ ہی کرپشن کے کیسز اور نیب ختم کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ ملک میں تاریخی مہنگائی ہے، ہر طرف اشیا کی قیمتیں غیرمعمولی بڑھ گئی ہیں اور معیشت زمین بوس ہے اور ابھی اور مہنگائی ہوگی۔

سابق وزیر اعظم نے سوال اٹھایا کہ ’کیا وجہ تھی کہ ہماری حکومت کو گرا کر آزمودہ چوروں کو بٹھایا اور آج لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان قرضوں کی قسطیں واپس نہیں کر پائے گا اور ڈیفالٹ ہوجائے گا، موجودہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پیر پڑے ہوئے ہیں اور ان کی ایما پر مہنگائی کے لیے حامی بھر چکے ہیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خواتین اور دیگر کارکن لوگوں کے دروازوں پر جا کر دستخط دیں اور انہیں بتائیں کہ ہمارے لیے گھروں سے نکلنا کتنا اہم ہے، لوگوں کو آگاہ کریں کہ یہ ذمہ داری صرف عمران خان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں