ہم ہجوم سے قوم کب بنیں گے ؟ / شائستہ حسن

Spread the love

آج کی تحریر سیاسی بھی ہے اور غیر سیاسی بھی. بات صرف باہمی عزت و احترام کی ہے کہ اپنا نکتہ نظر اہم تر سمجھنے سے پہلے ایک نظر دوسرے کی رائے پر بھی ڈال لی جائے. ہو سکتا ہے دونوں کی بات ایک ہو تو پھر جھگڑا کس بات کا…. فرق انیس بیس کا بھی ہو تو نظرانداز کرنا سیکھیے. لوگوں میں محبتیں بانٹیے، عداوتوں سے گریز کیجیے، مسائل کا حل لڑائی جھگڑے، بحث تکرار سے نہیں بلکہ پیار محبت اور سوجھ بوجھ سے ہی نکل سکتا ہے. ہمیں جس تبدیلی کی ضرورت ہے وہ ہے اپنے آپ کو بدلنا….. سیاستدان تو آتے رہیں گے اور نعرے لگاتے رہیں گے اور عوام ان نعروں کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے….. لیکن ہوگا کچھ بھی نہیں… بہتر ہے کہ اپنے آپ کو تبدیل کریں، اپنے آج کو تبدیل کریں. اپنا احتساب خود کریں کہ ہم کیا تھے اور اب کیا ہو گئے ہیں… اپنے اندر برداشت، باہمی عزت و احترام اور تعاون کی صفات پیدا کریں… اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ دیں. کافی عرصہ سے والدین نے صرف سوشل میڈیا کو سنبھالا ہوا ہے اور اولاد کی جانب سے بے خبر سوشل میڈیا پر بہترین نقاد، بہترین لکھاری اور بہترین جگت باز کی دوڑ میں لگے ہیں. قومیں اسطرح نہیں بنتیں، ہم تو اب قوم بھی کہاں رہے.. بس ہجوم بن کر رہ گئے ہیں. یہ سوشل میڈیا یورپ میں بھی ہے اور لوگ اسے استعمال بھی کرتے ہیں لیکن صرف کارہائے ہستی سے فراغت کے بعد جبکہ پاکستان میں کارہائے ہستی کی ادائیگی کا فریضہ سوشل میڈیا سے فراغت کے بعد ادا کیا جاتا ہے. دوسرے ممالک میں سوشل میڈیا زیادہ تر تعلیم و تربیت اور اپنے ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ سیاست میں مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وطنِ عزیز میں سوشل میڈیا پر ہم اپنی تمام تر توانائی، وقت اور توجہ صرف اور صرف سیاست پر صرف کر رہے ہیں. میں بہت سے واٹس ایپ گروپس کا حصہ ہوں جن میں متعدد ادبی حلقے ہیں لیکن ان میں بھی سیاسی بازار کی گرما گرمی دیکھ کر واپس آ جاتی ہوں. یقین جانیے دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ سیاست اب ہمارا اوڑھنا بچھونا بن گئی ہے اور تعلیم وتربیت کا فقدان ایک ایسی نسل گھڑ چکا ہے اور گھڑتا جا رہا ہے جس کے پاس ہماری تمام اچھی روایات ناپید ہیں. بڑوں کا ادب، تمیز تہذیب تو اب قصہ پارینہ ہو چکی لیکن آپس میں سوشل میڈیا پر جس طرح ایک دوسرے کو حسبِ استطاعت منہ توڑ جواب دینے کی روایت جنم لے چکی ہے اس نے سوشل میڈیا کا درجہ حرارت کچھ اتنا بڑھا دیا ہے کہ دوبدو لڑائی اب بہت پیچھے رہ گئی ہے. ساری دشمنی، مخاصمت، خنس نہ صرف خود نکالا جاتا ہے بلکہ اپنے ہمنواؤں سے دوسرے کی ٹرولنگ بھی کروائی جاتی ہے. انھی سیاسی لڑائیوں کو لڑتے لڑتے ہماری پوسٹس تو کیا ہمارے محاورے اور استعارے تک سیاسی رنگ میں رنگے جا چکے ہیں، جیسے کہ پی ٹی آئی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا، ن لیگ کی بَر آئی، ق لیگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی اور حالیہ حالات حاضرہ پر دور کے ڈھول سہانے… ن لیگ کو لگا کہ وہ آتے ہی دودھ شہد کی نہریں بہا دینگے لیکن انہیں کیا پتہ کہ چوری کا مال کس موری میں پڑا ہوا ہے. مان نہ مان میں تیرا مہمان کے مصداق بہتی گنگا میں ایم کیو ایم نے بھی ہاتھ دھونے کی کوشش کی لیکن ہاتھ کچھ نہیں آیا. دوسری طرف عون چودھری اور علیم خان جو گھر کے بھیدی تھے انھوں نے عمرانی لنکا ڈھائی اور اس میں سے فرح گوگی نکل آئی. اب جب بھی کوئی اخلاقی یا معاشرتی پوسٹ لگائی جاتی ہے تو اسکے سیاسی ہونے کا گمان خود بخود ہونے لگتا ہے. عام گفتگو میں بات کرتے ہوئے محاورے اور استعارے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سے نسبت کی بدولت خود بخود سیاسی سیاسی لگنے لگتے ہیں. حتی کہ اب رشتہ دیکھنے سے پہلے باقاعدہ طور پر پوچھا جاتا ہے کہ اس خاندان کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے اور لڑکی یا لڑکے کے اپنے سیاسی خیالات کیا ہیں. خاص طور پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے خاندان آپس میں رشتہ کے لین دین قطعی نہیں کرتے. کیونکہ آجکل سسرالی طعنے بھی سیاسی ہو گئے ہیں. پرانی دوستیاں تک سیاسی وفاداری کی نظر ہونے لگی ہیں. آئے دن اخبارات کی زینت ایسی خبریں بنتی ہیں کہ دوست نے اپنے جگری دوست کا خون کر دیا کیونکہ دوست نے عمران خان کو گھڑی چور کہا تھا…. یا پھر توتکار اور ہاتھا پائی وہ تو روزمرہ کی خبر ہے. الیکشن جیتنے کے بعد یہی سیاستدان آپ کے مسائل بھول کر اپنی لوٹ مار میں لگ جاتے ہیں اور ہم اپنے مسائل حل کروانے کی بجائے انہی سیاستدانوں کی غلطیوں کا دفاع کرنے میں لگے رہتے ہیں. جبکہ وہی غریب دوست جس سے آپ نے اپنے پسندیدہ سیاستدان کی خاطر لڑائی کی تھی وہ آپ کو گھر بٹھا کر چائے بھی پلاتا تھا، کھانا بھی کھلاتا تھا اور آپکے مسائل کا حل ڈھونڈنے میں حسبِ توفیق آپکے ساتھ بھی کھڑا ہوتا تھا، لیکن صرف سیاسی وابستگی نے آپ سے آپکے پیارے دوست کو ہی جدا کر دیا. معاشرتی برائیاں تو ہر دور میں ہی رہی ہیں لیکن سیاسی دشمنی ایک ایسی برائی بن چکی ہے جس نے بقایا برائیوں کو اپنے رنگ میں رنگ کر اس برائی کا رنگ مزید گہرا کر دیا ہے. جس تیزی سے پاکستانی معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہے کاش کہ اس تیزی سے پاکستان کی ترقی کا گراف اوپر جاتا. یقیناً معاشرتی گراوٹ معاشی انحطاط کی کئی دوسری وجوہات میں سے ایک ہے. لیکن سمجھائے کون؟ وہ نسل جو نظریہ پاکستان کی آبیاری کرتی تھی جو پڑھی لکھی تھی یا ان پڑھ، لیکن اسلامی اصولوں سے جن کی زندگیاں بندھی ہوئی تھیں. جو اولاد کو کھانے کو کم اور اخلاقیات پر لیکچر زیادہ دیا کرتے تھی وہ نسل اب ناپید ہوچکی. دیکھا جائے تو اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اولاد کو کیا سکھا رہے ہیں ہم اس ملک کی ترقی یا تنزلی میں کس قدر حصہ دار ہیں. ہمیں اپنا قبلہ آپ درست کرنا ہوگا اور اپنی آنیوالی نسلوں کیلئے بہترین مثالیں چھوڑ کر جانا ہوگا ورنہ بدتمیزی اور بد تہذیبی کا جو بیج بویا جا رہا ہے اس کے بعد کس قسم کی فصلیں کاٹی جائیں گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں