ماحولیاتی آلودگی کا عالمی دن

Spread the love

اسلام آباد (ثاقب علی) گزشتہ دہائیوں سے ماحولیاتی، فضائی و آبی آلودگی کرہ ارض پر موجود انسان، حیوانات، اور نباتات کے لیے بہت ہی تشویشناک حالات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی زندگی کی بقا ٔ زمین، ہوا اور پانی کے ساتھ ساتھ لاتعداد اقسام کے جنگلوں، پیڑ پودوں، جانوروں، پرندوں، کیڑے مکوڑوں، سمندروں، ندیوں، تالابوں پر منحصر ہے۔اگر ہم ایک نظر بڑھتے ماحولیاتی مسائل پر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ بہت تیزی سے بڑھتی آبادی، شہروں کا پھیلاؤ، جنگلات کا کٹاؤ، کیمیائی و نیوکلائی عمل اورفضائی آلودگی و کثافت سے ماحولیات کی سنگینی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق بڑھتی فضائی آلودگی سے ہر سال عالمی سطح پر 70 لاکھ سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہو رہی ہے اور کئی لاکھ لوگ دمّہ، کینسر اور دیگر کئی طرح کے امراض کے شکار ہو رہے ہیں۔عالمی سطح پر بڑھتے ایسے منفی ماحولیاتی اثرات و مسائل کو دیکھتے ہوئے 15دسمبر 1972 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ماحولیات کے تحفظ و توازن کی ضرورت کے پیش نظر اسٹاک ہوم میں ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا تھا اور یہ فیصلہ ہوا تھا کہ قدرت کے فطری و ماحولیاتی نظام کوبحال کرنے اور ان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر سال عالمی سطح پر 5 ؍جون 1974 ء سے عالمی یوم ماحولیات کا انعقاد کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے اس اہم فیصلہ کے مطابق 5 جون 1974ء کو امریکہ کے شہر اسپوکانہ میں پہلی بار عالمی یوم ماحولیات منعقد ہوا تھا۔ جس کے کچھ مثبت نتائج و اثرات کچھ ایسے ممالک میں دیکھنے کو ملے جہاں کی حکومت اور عوام نے انسانی بقأ کے اس اہم مسئلے پر سنجیدگی دکھائی۔ لیکن ان ممالک میں جہاں انسانی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور صنعتی ترقی کی رفتار بھی تیز ہے، وہاں ماحولیات کی سنگینی کو نظر انداز کیا گیا۔ جس کے مضر اور منفی نتائج ایسے ممالک میں زیادہ نظر آ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بار بار اس عالمی مسئلہ کے سلسلے میں خبردار کرنے کی کوشش کی ہے کہ عالمی سطح پر مختلف وجوہات اور بے توجہی کے باعث ماحولیات بہت تیزی سے زہریلا ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ کر ہر سال لاکھوں انسان ہلاک ہو رہاے ہیں اور امراض کے شکار ہو رہے ہیں۔ United Nation Environment assembly کی ایک رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر میں تیزی معدوم ہوتے جانور، نباتات، انسانی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ کے باعث آلودہ فضا اور پلاسٹک کے استعمال، نامیاتی کھاد اور پانی میں ہامونز میں تتبدیلی لانے والے کیمیائی مواد کی موجودگی کو دنیا اس کے ماحول اور اس کی آبادی کے لیے سنگین خطرات قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ ایمسٹرڈیم اور لندن سے تعلق رکھنے والے دو انوائرمینٹل سائنسدانوں جؤستیا گپتا اور پال ایکنز نے مرتب کی تھی۔ ان سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں فضائی آلودگی سے ہرسال 70 لاکھ افراد کی موت ہو رہی ہے اور اس سے معاشرے کو 50 کھرب ڈالر سالانہ کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں