برطانیہ اور پاکستان کے بیچ موسمیاتی تبدیلی پر دوطرفہ مذاکرات کی ضرورت ہے، شیری رحمان

Spread the love

اسلام آباد (ثاقب علی)شیری رحمان نےکہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے بیچ موسمیاتی تبدیلی پر دوطرفہ ڈائلاگ کی ضرورت ہے۔برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان سے ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات پر گفتگو کی گئی۔ملاقات میں سینیٹر شیری رحمان کو وزارت ماحولیاتی تبدیلی کا چارج سمبھالنے پر مبارکباد دی گئی۔ملاقات میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے درپیش متعدد مسائل کو اجاگر کیا جبکہ ملاقات میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے باہمی تعاون، کوپ 26 میں کی گئی عزم اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔کرسچن ٹرنر نے وفاقی وزیر سینٹر شیری رحمان کو ڈینمارک میں مئی میں ہونی والی کوپ 27 میں شرکت کی دعوت دی۔
اس موقع پر وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کم آلودگی پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ گلوبل پولوشن میں پاکستان کا حصہ صرف 6 فیصد ہے، باوجود اس کے پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے متاثر ممالک کی فہرست میں 5 ویں نمبر پر ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تکنیکی مدد کی ضرورت ہے، بین الاقوامی سطح پر طے شدہ شراکت کے نفاذ کے لیے وزارت توانائی میں صلاحیت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تعاون درکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور پاکستان کے بیچ موسمیاتی تبدیلی پر دوطرفہ ڈائلاگ کی ضرورت ہے، مردوں کے مقابلے میں خواتین موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی میں صنف کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا چاہئے، موسمیاتی تبدیلیوں کی تخفیف اور موافقت میں سرمایہ کاری کے لیے برطانیہ کے نجی شعبے کے ساتھ روابط کئے جائے گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں