شیری رحمان نے وزارت کا چارج سنبھال لیا

Spread the love

اسلام آباد( ثاقب علی)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے وزارت کا چارج سنبھال لیا، سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر حکام نے وفاقی وزیر سینیٹر شیری رحمان کو بریفنگ دی۔شیری رحمان نے کہا کہ ترقیاتی ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی انتہائی اہم اور سنجیدہ مضمون ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موسمیاتی تبدیلی میرے لیے بہت بنیادی مسئلہ ہے، ہمیں اپنی ترجیحات پر جلد عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی کا کہنا تھا کہ میں جلد ہی کابینہ میں موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی پیش کروں گی اور 100 دنوں میں تمام صوبوں کے ساتھ ایک موسمیاتی تبدیلی کونسل قائم کروں گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی، فضائی آلودگی، سموگ کا خاتمہ، پانی کی قلت، عوامی آگاہی اور دیگر اہم موضوعات ہماری پالیسی ترجیحات میں شامل ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے، ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا شمار 5 ویں نمبر پر ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے، پاکستان پر ماحولیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی، خشک سالی اور درجہ حرارت کے تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی کا کہنا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک کاتخمینہ ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سالانہ 3.8 بلین ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 1 لاکھ 28 ہزا لوگ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔شیری رحمان نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت کی وجہ سے پاکستان غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، تقریباً 40 فیصد پاکستانی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات سے بچنے کے لئے لوگوں کوآگاہی دینا انتہائی اہم ہے، افسوس ہے کہ پونے چار سال حکومت نے ساری توجہ ایک منصوبے پر رکھی۔وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی نے کہا کہ صرف بلین ٹری سونامی منصوبہ پاکستان کی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی نہیں ہے، ہمیں ایک منصوبے اور پالیسی میں فرق واضع کرنا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف ایک منصوبے سے نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، عوامی آگاہی اور روک تھام کے لئے پاکستان کو مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں