دھمکی آمیز خط ؛ لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی سے معذرت

Spread the love

اسلام آباد: حکومت نے دھمکی آمیز خط کے معاملے میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ تھا تاہم جنرل (ر) طارق نے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی سے معذرت کرلی۔

جنرل (ر) طارق خان نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ حکومت نے لیٹر گیٹ کمیشن کی انکوائری کی سربراہی کے لیے میرا نام تجویز کیا تھا لیکن میں تحقیقات کمیشن کی سربراہی سے معذرت چاہتا ہوں۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کمیشن تحریک عدم اعتماد میں بیرونی سازش کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے گا۔

واضح رہے اس حوالے سے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ حکومت نے عالمی سازش کے خلاف تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے دیا جس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طارق خان ہوں گے، یہ کمیشن خود اپنی تحقیقاتی ٹیمیں بناسکے گا، کمیشن معاملے کے پیچھے چھپے کرداروں کو قوم کے سامنے لائے اور تحقیقات کرے گا کہ حکومت گرانے کے لیے سازش کہاں سے شروع ہوئی۔

انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان وزیراعظم ہیں اور رہیں گے، وفاقی کابینہ نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کیا، ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ضمیر خریدنے کی کوشش کی گئی، وزیراعظم کے خلاف یہ عمومی تحریک عدم اعتماد نہیں ہے، اگر ہوتی تو ہم اسے خوش آمدید کہتے۔

وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ یہ تحریک عدم اعتماد بین الاقوامی سازش کے تحت لائی گئی، کل سازش سے متعلق اصل ریکارڈ ارکان اسمبلی کے سامنے رکھا جائے گا، مخصوص لوگ ہیں جنہیں معلوم تھا یہ سازش کہاں بنی، دیکھا جائے گا مقامی ہینڈلز کون تھے، غیر ملکی سفارت خانے سے آٹھ سے زائد منحرف ارکان اسمبلی کو اپروچ کیا گیا، ان ملاقاتوں کا ریکارڈ انٹیلی جنس ایجنسیز کے پاس موجود ہے، کمیشن ان سب باتوں کا جائزہ لے گا۔

فواد چوہدری نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے خود ہی اجلاس طلب کیا اور حیرت انگیز فیصلہ کیا کہ منحرف اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں جب کہ منحرف اراکین کا کیس تو سپریم کورٹ کے پاس تھا ہی نہیں، سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے، ہم فیصلے پر نظرثانی کے لیے عدالت جائیں گے، پارلیمنٹ کی بالادستی اب نہیں رہی، اب پارلیمان کی حاکمیت سپریم کورٹ کو منتقل ہوگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں