3 چوہے مل کر میرا شکار کرنے آرہے ہیں ان کو شکست دوں گا، وزیراعظم

3 چوہے مل کر میرا شکار کرنے آرہے ہیں ان کو شکست دوں گا، وزیراعظم
Spread the love

مانسہرہ: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 3 چوہے مل کر میرا شکار کرنے آرہے ہیں میں ان کو شکست دوں گا۔

ٹھاکرہ اسٹیڈیم مانسہرہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ہر جلسے میں کہتا ہوں کہ فضل الرحمان کو ڈیزل نہیں کہوں گا، لیکن میں کیا کروں میں جب تقریر کے لئے کھڑا ہوں تو پنڈال میں کھڑے عوام ڈیزل کے نعرے بلند کردیتے ہیں، میں نے اپنی حکومت کے ہر اچھے اور برے وقت میں کوشش کی کہ ڈیزل کی قیمت کم کروں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ اور رسول گواہ ہے کہ ووٹ لینے کے لیے مذہب کو استعمال نہیں کرتا، فضل الرحمان 30سال سے دین کے نام پر سیاست کر رہے ہیں، میں اپنے ووٹ کے لئے کسی کا نام نہیں لیتا نہ کسی کا نام اس لئے لیتا ہوں کہ میرا نام بڑا ہو، میں وہ ہوں جو کرکٹ کی دنیا کا ہیرا ہے، میں کرکٹ کی دنیا کا سپر اسٹار رہ چکا ہوں، میں آپ کو اپنے تجربے سےسکھانا چاہتا ہوں کہ صحیح راستہ کون سا ہے اور ناکامی کا راستہ کون سا ہے، جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو اللہ سے مانگتے ہیں کہ اللہ اس راستے پر چلا جس پر تیری نعمتیں ہیں اس پر نہ چلانا جس میں تباہی اور تیرا غضب ہے۔

عمران خان نے کہا کہ لوگوں کے ضمیر کو خریدنے کے لیے 20 سے 25 کروڑ کی آفر کی جا رہی ہے، ہمارے رکن قومی اسمبلی صالح محمد کو اپوزیشن کی جانب سے 25 کروڑ روپے کی پیشکش ہوئی جس کو انہوں نے ٹھکرا دیا، جب ان سے کوئی پیسے نہیں لیتا تو یہ چوہے مل کر آپ کو بلیک میل کرتے ہیں، یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، آسان راستے پر تو سب چلتے ہیں، لیکن ہمارے نبیﷺ جن سے اللہ کو سب سے زیادہ پیار تھا، ان پر سخت وقت زیادہ رہا، سچ اور حق کا راستہ ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ 3 چیزیں واضح ہیں جتنا پیسہ ہے وہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو سمجھتے ہیں کہ انسان انسان کو ذلیل کرسکتا ہے، ایسا کچھ نہیں ہے کیوں کہ یہ سب اللہ کے ہاتھ میں رکھا ہے، اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئے ان کے دل سے خوف ختم کردیتا ہوں، جو بے ایمان ہوتے ہیں وہ بزدل اور کمزور ہوتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ نے مجھ سے اور میری حکومت سے وہ کام لیا جو 50 سال میں کوئی حکومت نہ کرسکی، ہم نے یو این میں ریزولیشن پاس کرائی، اب 15 مارچ کو ہرسال یو این میں اسلامو فوبیا کا دن منایا جائے گا، ہمارے نبیﷺ کی گستاخی کی جاتی تھی، لیکن اب یو این نے پاس کیا ہے کہ آزادی رائے کی آر میں کوئی بھی شخص دنیا میں موجود ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری نہیں کرسکتا، یہ سب اللہ نے ہم سے کرایا ہے، میں فضل الرحمان سے پوچھتا ہوں کہ کب سے سیاست میں ہو تم نے یہ کیوں نہیں کیا۔

عمران خان نے کہا کہ حق گوئی میرا ایمان ہے یہ ووٹ لینے کی کوشش نہیں، پاکستان اب اٹھے گا اور اپنے نبیﷺ کی ہرسنت پر چلے گا، رسول اللہ ﷺ نے جو اصول طے کئے تھے ہم اس پر چلیں گے تو دنیا میں ہماری اور ہمارے پاسپورٹ کی عزت ہوگی، جب تک معاشرے میں عدل و انصاف نہیں آتا وہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، مدینہ کی ریاست ایک فلاحی ریاست تھی، ہم نے ہیلتھ کارڈ شروع کیا، جس سے غریب آدمی مہنگے سے مہنگے اسپتال میں علاج کراسکتا ہے، ہر گھر میں ہیلتھ کارڈ ہوگا، یہ فلاحی ریاست کی جانب پہلا قدم ہے۔ ہم نے احساس پروگرام شروع کیا، ہر مستحق گھر کو 14 ہزار رروپے دے رہے ہیں، دو کروڑ خاندانوں کو راشن پر 30 فیصد رعایت دے رہے ہیں، غریب گھرانوں کو 20 لاکھ روپے بلاسود دے رہے ہیں تاکہ وہ گھر بناسکیں، 5 لاکھ روپے کسان کو کھیتی باڑی کے لئے دے رہے ہیں، اور اسی خاندان میں نوکری کے لئے ٹیکنیکل ہنر دے رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے چاہتے ہیں کہ جیسے انہیں مشرف نے این آر او دیا تھا اور کرپشن کے کیسز معاف کئے تھے عمران خان بھی انہیں معاف کردے، جس دن میں نے ان کے کیسز معاف کئے تو پاکستان کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہوگی، تحریک عدم اعتماد اسی لئے شروع کی گئی کہ یہ لوگ بچ جائیں۔ مجھے چوہوں پر تھوڑا ترس آ رہا ہے، یہ تین چوہے جو میرا شکار کرنے نکلے ہیں میں ان کا شکار کروں گا اور ان کو شکست دوں گا۔

عمران خان نے کہا کہ چوہا نمبر ون شہبازشریف نے شیروانی سلوا لی تھی اور وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اگر میں عمران خان کی جگہ ہوتا تو امریکا کو ناراض نہ کرتا، میں تو کوئی بھی بوٹ دیکھوں پالش کردیتا ہوں، آج سے شہبازشریف کا نام چیری بلاسم رکھ دیا ہے، اب شریف خاندان کے ملک کو لوٹنے کے دن چلے گئے، اور شہبازشریف نے جو شیروانی سلوائی تھی وہ کسی اور کو دے دیں، اب یہ لوگ لندن میں ہی سیاست کریں گے، اور تھوڑے عرصے بعد انگلینڈ والے پاکستان سے قرضے مانگا کریں گے، کیوں کہ یہ اس ملک کا بھی دیوالیہ نکال دیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں قوم کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ نکلیں اور چوہوں کو بتادیں کہ ہم امر بالمعروف کے ساتھ کھڑے ہیں، اور جس نے قوم کی معیشت کو تباہ کیا، عوام کا پیسہ چوری کیا اور باہر کے ملکوں میں بھیجا، اس کی قبر کھودیں گے، ان کی قبر پر نیا پاکستان کھڑا ہوگا، ہم نے مثال بننا ہے ایسا نظام لانا ہے جو اس ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کھڑا کرے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد غلام بھارت میں پیدا ہوئے تھے، لیکن ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے، ہم سر اٹھا کر چل سکتے ہیں، شروع میں بہت مشکلات تھیں، لوگ ہجرت کرکے پاکستان آئے، پیسے نہیں تھے لیکن ایک جذبہ تھا، پھر بعد میں ہمارے ملک میں جیسے جیسے باہر کے ملکوں کی غلامی شروع کی گئی، اور ہمارے حکمرانوں نے پیسے چوری کرکے دوسرے ممالک میں بھیجے، پھر اسی ملک کے غلام بن گئے، ہم نے افغان جنگ میں 80 ہزار افراد شہید کروائے اور اپنے جوانوں کی قربانیاں دیں، اور جس کے لئے جنگ لڑرہے تھے وہی ملک ہم پر ڈرون حملے کررہا تھا، اس وقت دو چوہے ہمارے ملک کی حکمرانی کررہے تھے، لیکن جس نے پیسے چوری کرکے مغربی بینکوں میں رکھنے تھے انہیں کوئی احساس نہیں تھا، کیوں کہ وہ ان ممالک کے غلام بن چکے تھے۔ لیکن اب ہم نے تہیہ کرلیا ہے کہ کسی کی غلامی نہیں کریں گے، بھارت سے بھی اس وقت تک بات نہیں ہوگی جب تک کشمیر کو اس کی اصلی حالت پر نہیں لاتا، ہم کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، ہم ثابت کرکے دکھائیں گے کہ ہمارے پاسپورٹ کی عزت ہوگی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ کا حکم ہے کہ ہر انسان اچھائی کے ساتھ کھڑا ہو اچھائی کے لئے جہاد کرے اور برائی کے خلاف کھڑا ہو اور جہاد کرے، اللہ نے اجازت نہیں دی کہ جب حق اور باطل کی جنگ ہو اور بندہ پیچھے کھڑا ہو اور کہے کہ میں نیوٹرل ہوں، ہمارا معاشرہ اس وقت امر بالمعروف پر نہیں چل رہا، اس کے برعکس دیگر ممالک میں عوام اور میڈیا بدی اور برائی کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں، جب کہ یہاں کسی کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے نکلیں تو پھر بھی لوگ اسے برا نہیں کہتے، ایک بھگوڑا ملک سے بھاگ جائے پھر بھی وہ لوگوں کا لیڈر ہو، اگر یہاں امر بالمعروف کا معاشرہ ہو تو عوام تو کیا اس کی پارٹی بھی اسے چھوڑ دے، یہ اس وجہ سے ہے کہ ہم اللہ کی نہیں سنتے۔

عمران خان نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ان ساڑھے 3 سالوں میں جو کارکردگی اس حکومت نے دکھائی، کسی حکومت نے 50 سال میں نہیں دکھائی، ہماری معیشت دیکھ لیں، ہمارا ٹیکس دیکھ لیں اس عرصے میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع ہوا، ہماری فصلوں کی تاریخی پیداوار ہوئی ہے، ہم نے کسانوں کا دھیان رکھا اور انہیں وہ قیمت دی جو پہلے کبھی نہیں دی گئی، ہماری انڈسٹری چل پڑی ہے، آئی ٹی کی انڈسٹری 75 فیصد آگے بڑھی ہے، ایماندار حکومت کا فرق یہ ہے کہ ریکوڈک پر پاکستان کو 2000 ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا تھا، لیکن مجھے فخر ہے 3 سال کی مسلسل جدو جہد کے بعد آج وہی کمپنی واپس آگئی ہے جس نے ہم پر کیس بنایا تھا، اب وہ اسی منصوبے پر 9 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے گی، پاکستان میں ڈالر آئیں گے، بلوچستان ترقی کرے گا، ہماری سڑکیں دیکھ لیں تحقیق کرلیں کہ ہماری حکومت میں سڑکوں کا تخمینہ کیا ہے اور ماضی میں ان کا تخمینہ کیا تھا، ہم نے قوم کے ایک ہزار ارب روپے بچائے اور دوگنی سڑکیں بنائیں، ریلوے کو تاریخ میں پہلی بار خسارے سے نفع پر لے آئے ہیں، ہم نے ماضی میں بجلی اور گیس پر کئے گئے معاہدے کی نسبت نئے معاہدے کرکے 700 ارب روپے قوم کے بچائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں