حکومت کا شہبازشریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں جانے کا فیصلہ

حکومت کا شہبازشریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں جانے کا فیصلہ
Spread the love

اسلام آباد: وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے وفاقی حکومت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے وطن واپس نہ آنے پر ان کے ضمانتی شہباز شریف کے خلاف کارروائی کے لیے لاہورہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔

کراچی میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد کے انتقال پر ان سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ فنانس (ترمیمی) بل اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے، امید ہے 15 سے 20 جنوری تک یہ بل منظور ہو جائے گا، فنانس (ترمیمی) بل پر تمام اتحادی ہمارے ساتھ ہیں۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کی غرض سے لندن بھیجے جانے کے عدالتی فیصلے میں شہباز شریف کی جانب سے ایک بیان حلفی جمع کرایا گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے بھائی کی پاکستان واپس آنے سے متعلق ضمانت دی تھی، عدالت عالیہ کو اس حوالے سے ازخود نوٹس لیتے ہوئے شہباز شریف کو طلب کرنا چاہیے تھا، لیکن ابھی تک لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اس لیے وفاقی حکومت نے اس ضمن میں شہباز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، ان کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی، نواز شریف کی واپسی کے لیے وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کوہدایت جاری کی ہے، اٹارنی جنرل سے کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملہ کو ہائی کورٹ کے سامنے اٹھائیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ 30 سالوں کی خرابیاں 3 سالوں میں دور نہیں کی جا سکتی، ماضی میں انڈسٹری کو تباہ کیا گیا، 1947 سے لے کر 2008 تک ہمارا کل قرضہ 6 ٹریلین تھا، 2008 سے 2018 تک یہ قرضہ 23 ٹریلین تک پہنچ گیا، 32 ارب ڈالر قرضہ ہم واپس کر چکے ہیں، اور 5 سالوں میں مجموعی طور پر 55 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، یہ وہ قرضہ ہے جو ماضی کی حکومتوں نے لیا، اتنے قرضے کے باوجود ہم نے انڈسٹری، زراعت، تعمیرات کے شعبہ کو بحال کیا، آج پاکستان اپنے پاﺅں پر کھڑا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف گورنرز کی تقرری حکومت نے کرنی ہے، ہم نے اسٹیٹ بینک کسی کو گروی نہیں رکھا، گزشتہ 3 سالوں میں ایک روپیہ اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لیا گیا، نواز شریف اور اسحاق ڈار نے ٹریلین روپے اسٹیٹ بینک سے چھپوائے اور قرضہ لیا، جب اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے تو اس وقت کے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ان کے لئے منی لانڈرنگ کر رہے تھے، ہم آزاد اور خود مختار اداروں پر یقین رکھتے ہیں، اسٹیٹ بینک کی آزادی پاکستان کے مفاد میں ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ تیل کی قیمتوں کا تعین اوگرا کرتا ہے، عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں گی تو یہاں بھی کم ہوں گی، جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو میڈیا میں ہیڈ لائن شائع کر دی جاتی ہے، لیکن جب کم ہوتی ہیں تو میڈیا اس پر خاموش رہتا ہے، اس وقت پوری دنیا میں یوریا کی قیمت 10 ہزار روپے فی بوری ہے، پاکستان میں 1700 سے 2000 روپے قیمت ہے، ایک ٹرک یوریا کا باہر چلا جائے تو اس سے 72 سے 78 لاکھ روپے کمائے جا سکتے ہیں۔جب بھی کسی چیز کی بلیک مارکیٹنگ ہو تو سندھ میں اس کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے، پاکستان کی تاریخ میں گزشتہ سال سب سے زیادہ یوریا کی پیداوار ہوئی۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں صحت کارڈ کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے، صحت کارڈ پروگرام کے تحت نجی و سرکاری اسپتالوں سےعلاج کروایا جا سکتا ہے۔اس پروگرام کے بعد ملک میں مزید نجی اسپتال بننا شروع ہوں گے، سرکاری اسپتالوں کے پاس بھی فنڈز آئیں گے اور ان کی حالت بھی بہتر ہوگی، پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں یہ پروگرام شروع ہو گیا ہے، بلوچستان میں بھی یہ منصوبہ شروع ہو رہا ہے، سندھ واحد صوبہ ہے جو اس پروگرام میں شامل نہیں، سندھ حکومت بھی سندھ کے شہریوں کو صحت کارڈ کی سہولت فوری طور پر فراہم کرے۔ راشن پروگرام میں بھی سندھ حصہ نہیں لے رہا، راشن پروگرام میں آٹا، گھی اور دال پر 30 فیصد تک رعایت دی جا رہی ہے. سندھ حکومت کی وجہ سے سندھ کے شہریوں کو یہ سہولت بھی میسر نہیں ہوگی، پتہ نہیں مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی سندھ کے لوگوں سے کس چیز کا بدلہ لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کی عمومی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام ملنے سے پاکستان میں صورتحال بہتر ہوگی، روپے کی قدر میں استحکام آ رہا ہے، پاکستان کے اندر مہنگائی کے اثرات عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پڑے۔ تیل، گھی اور دالیں بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں، عالمی منڈی میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو یہاں بھی ان کی قیمتیں بڑھیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھرپور طریقے سے کورونا وبا کا مقابلہ کیا، امریکا میں گزشتہ ہفتے 2500 فلائیٹس منسوخ ہوئیں، ہمارے ہاں صورتحال بہتر ہے، ہم نے اپنے شہریوں کو مفت ویکسین فراہم کی، ویکسینیشن کے لئے جو اہداف مقرر کیے، وہ الحمد اللہ پورے کیے، پاکستان معاشی استحکام کی طرف واپس آ رہا ہے، عالمی منڈی میں توانائی اور کموڈیٹی کی قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عام عوام کو پہنچے گا، نیا سال پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا سال ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں