زکام کے خلاف پہلی ایم آر این اے ویکسین بھی ابتدائی آزمائشوں میں کامیاب

زکام کے خلاف پہلی ایم آر این اے ویکسین بھی ابتدائی آزمائشوں میں کامیاب
Spread the love

کیمبرج، میساچیوسٹس: بایوٹیکنالوجی کمپنی ’موڈرنا‘ نے اعلان کیا ہے کہ زکام (فلُو) سے بچانے کےلیے اس کی ایم آر این اے ویکسین پہلے مرحلے کی طبّی آزمائشوں (فیز 1 کلینیکل ٹرائلز) میں کامیاب ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ وہی ’ایم آر این اے ٹیکنالوجی‘ ہے جسے استعمال کرتے ہوئے فائزر/ بایو این ٹیک اور موڈرنا نے اپنی اپنی کووِڈ 19 ویکسینز تیار کی ہیں جو دنیا بھر میں بہت کامیابی سے استعمال ہورہی ہیں۔

موڈرنا نے اپنی ایم آر این اے فلُو ویکسین کو ’ایم آر این اے 1010‘ (mRNA-1010) کا عارضی نام دیا ہے جسے پہلے مرحلے میں 180 بالغ رضاکاروں پر کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔
رضاکاروں کو اس ویکسین کی بالترتیب 50 مائیکروگرام اور 100 مائیکروگرام والی خوراکیں دی گئیں، جس کے 29 دن بعد تک ان کا روزانہ بنیاد پر معائنہ کیا جاتا رہا۔

تجزیئے سے معلوم ہوا کہ ایم آر این اے فلُو ویکسین کی دونوں طرح کی خوراکیں لگوانے والے رضاکاروں کو فائدہ ہوا لیکن 50 مائیکروگرام ویکسین لگوانے والے رضاکاروں کو نہ صرف بھرپور فائدہ ہوا بلکہ ان میں ویکسین کے ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) بھی بہت کم ظاہر ہوئے۔

انفلوئنزا ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس بہت معمولی نوعیت کے تھے جو انجکشن والی جگہ پر درد، چبھن دردِ سر، پٹھوں اور جوڑوں میں اینٹھن، اور تھکاوٹ جیسی علامات پر مشتمل تھے۔

علاوہ ازیں، یہ ضمنی اثرات بڑی عمر والے افراد کی نسبت نوجوانوں میں زیادہ دکھائی دیئے۔

عالمی ادارہ صحت نے اندازہ لگایا ہے کہ انفلوئنزا یا ’موسمی زکام‘ ہر سال تیس لاکھ سے پچاس لاکھ افراد کو دنیا بھر میں متاثر کرتا ہے جبکہ ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ عالمی اموات کی وجہ بھی یہی مرض بنتا ہے۔

’ایم آر این اے 1010‘ کی دوسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں (فیز 2 کلینیکل ٹرائلز) بھی نومبر میں شروع ہوچکی ہیں جن میں 500 رضاکار بھرتی کیے گئے ہیں۔ یہ آزمائشیں اگلے سال جون میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

کووِڈ 19 میں آر این اے ویکسین کی کامیابی سے دنیا بھر میں طبّی ماہرین کو بہت حوصلہ ملا ہے اور اب بہت کئی بیماریوں کےلیے ایم آر این اے ویکسینز پر کام میں بہت تیزی آچکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی ویکسینز کے مقابلے میں ایم آر این اے ویکسینز کی تیاری بہت کم وقت میں ممکن ہے جبکہ بڑے پیمانے پر ان کی پیداوار بھی بہت کم وقت میں، اور خاصے کم خرچ پر ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں