جب تک زندہ ہوں سانحہ سیالکوٹ جیسا واقعہ دوبارہ ہونے نہیں دوں گا، وزیراعظم

بلوچستان اور وزیرستان سمیت سب لوگوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم
Spread the love

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جس کسی نے بھی اسلام یا نبی ﷺ کا نام استعمال کرتے ہوئے کسی دوسرے انسان پر ظلم کیا ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔

سیالکوٹ کے سانحہ میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کرنے والے عدنان کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ عدنان آپ اکیلے ایک آدمی تھے جو حق پر کھڑے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ تاریخ آپ کو ایک بہادر کے طور پر یاد رکھے گی کہ ایک انسان تھا جو حیوانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا تھا۔ آپ نوجوانوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
یہ خبر پڑھیں : سیالکوٹ میں ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں سری لنکن شہری کو قتل کے بعد جلادیا

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسلام اور توہین رسالت ﷺ کے نام پر چند لوگ خود ہی فیصلہ کرلیتے ہیں اور خود ہی سزا بھی دے دیتے ہیں اور اگر خوش قسمتی سے الزام کا سامنے کرنے والا زندہ بچ جائے اور گرفتار ہو کر جیل پہنچ جائے تو نہ تو کوئی وکیل کیس لڑنے کی ہمت کر پاتا ہے اور نہ ہی کوئی جج کیس سننے کو تیار ہوتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جو کوئی بھی اسلام یا نبی آخری الزماں ﷺ کے نام پر کسی پر ظلم کرے گا ہم اسے کسی بھی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد قوم کو دوبارہ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے بتایا کہ سیالکوٹ کی تاجر برادری نے مقتول سری لنکن منیجر کے لواحقین کے لیے ایک لاکھ ڈالر جمع کیے ہیں جب کہ ان کی تنخواہ تاحیات اہل خانہ کو ملتی رہے گی۔

اس تقریب میں سری لنکن ہائی کمشنر سمیت وفاقی وزرا اور معززین شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ 23 مارچ کو بہادر شہری عدنان ملک کو تمغہ شجاعت سے بھی نوازا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں