چھاتی کے سرطان سے بچانے والی ویکسین کی آزمائشوں کا آغاز

Spread the love

اوہایو: امریکا کے کلیولینڈ کلینک میں چھاتی کے سرطان سے بچانے والی، اپنی نوعیت کی پہلی ویکسین کی ابتدائی آزمائشوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

پہلے مرحلے کی ان طبّی آزمائشوں (فیز ون کلینیکل ٹرائلز) میں 24 ایسی خواتین بھرتی کی جائیں گی جن میں ’ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر‘ کہلانے والے سرطان کی ابتدائی درجے میں تشخیص ہوئی تھی لیکن علاج کے بعد وہ چھاتی کے سرطان سے صحت یاب بھی ہوگئی تھیں۔

بتاتے چلیں کہ ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر، چھاتی کے سرطان کی وہ خطرناک قسم ہے جو ایک بار علاج کے بعد اکثر دوبارہ حملہ آور ہوتی ہے اور 25 فیصد مریضاؤں کےلیے اگلے پانچ سال میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

چھاتی کے سرطان میں مبتلا 12 سے 15 فیصد خواتین اسی قسم کے سرطان کا شکار ہوتی ہیں جن کی بڑی تعداد افریقی نژاد امریکی خواتین پر مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں یہ سرطان ایک خاص قسم کی جینیاتی ترمیم (بی آر سی اے ون) والی خواتین میں بھی زیادہ ہوتا ہے۔

طبّی آزمائشوں میں شریک رضاکار خواتین کو ہر دو ہفتے بعد اس ویکسین کی ایک خوراک لگائی جائے۔

پہلی خوراک 10 مائیکروگرام، دوسری 100 مائیکروگرام اور تیسری خوراک 1000 مائیکروگرام کی ہوگی۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ویکسین کی کم سے کم مؤثر خوراک کتنی ہے اور انسانی جسم زیادہ سے زیادہ اس کی کتنی خوراک برداشت کرسکتا ہے۔

یہ طبّی آزمائشیں ایک سال تک جاری رہیں گی اور ستمبر 2022 میں اختتام پذیر ہوں گی۔

اگر ان آزمائشوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تو پھر دوسرے اور تیسرے مرحلے کی طبّی آزمائشیں کی جائیں گی جو ممکنہ طور پر مزید پانچ سے چھ سال تک جاری رہیں گی۔

لہذا، اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو چھاتی کے سرطان کی یہ ویکسین 2030 تک دستیاب ہوسکتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں