پرانی دوا سے گردے کے کینسر کےعلاج کی امید روشن

پرانی دوا سے گردے کے کینسر کےعلاج کی امید روشن
Spread the love

لندن: ہمارے پاس پہلے سے موجود ایک اہم دوا کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس سے گردے کے کینسر سے شفایابی کے بعد اس کےدوسرے حملے کو روکا جاسکتا ہے۔

اس دوا کی فیز تھری طبی آزمائش کے نتائج سامنے آگئے ہیں اور یورپی ایسوسی ایشن آف یورولوجی کانگریس میں اس کی روداد پیش کی گئی ہے۔ اس اہم تحقیق کا مقصد آپریشن کے ذریعے گردے کی سرطانی رسولیاں نکالنے کے بعد گردوں کو سرطان کے دوسرے حملے سے بچانا تھا جس کا واضح طریقہ اس سے قبل موجود نہ تھا۔

فیزتھری ٹرائل میں 1000 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جو گردے کے کینسر کے شکار تھے اور جراحی کی بدولت ان کے گردے کا سرطان اور رسولیوں کو نکالا گیا تھا۔ ان افراد کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں سے نصف کو امینوتھراپی کی مشہور دوا پیمبرولائزومیب یا پیمبرو دی گئی جبکہ دیگر نصف افراد کو فرضی دوا (پلیسیبو) کھلائی گئی۔
پیمبرو کئی اقسام کے سرطان میں کامیابی سے کھلائی جاتی ہے۔ بالخصوص گردے کے سرطان میں مبتلا آخری درجے کے افراد کو بھی یہ دوا دی جاتی ہےاور بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس سے قبل 20 ممالک میں کی گئی ایک تحقیق بھی سامنے آئی ہے کہ یہ ابتدائی اسٹیج کے گردے کے مریضوں میں بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

دو سال بعد معلوم ہوا کہ جن افراد کو پیمبرو دی گئی تھی ان میں فرضی دوا کھانے والوں کے مقابلے میں گردے کے سرطان کا خطرہ 33 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ اس کے بعد مریضوں کا فالواپ بھی کیا گیا اوراگلے پانچ سال تک زندہ رہنے میں دوا کے کردار کو بھی نوٹ کیا گیا۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر تھامس پاؤلیس ہیں جو لندن کی کوئن میری یونیورسٹی میں بارٹس کینسر انسٹی ٹیوٹ میں تحقیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پیمبرو گردے کے سرطان کو دوبارہ لوٹنے سے روکنے میں واضح اور اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پھر یہ زندگی کو بڑھانے میں بھی مددگار ہے۔ ڈاکٹر تھامس نے امید ظاہر کی کہ چند مزید ثبوت کے بعد اسے استعمال کی اجازت مل جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں