کیا یہ دوا موٹاپے کا ’انقلابی علاج‘ بن سکتی ہے؟

کیا یہ دوا موٹاپے کا ’انقلابی علاج‘ بن سکتی ہے؟
Spread the love

کینبرا / ووہان: آسٹریلوی اور چینی ماہرین نے مشترکہ طور پر تحقیق کرتے ہوئے ایک ایسی دوا ایجاد کرلی ہے جو آنے والے برسوں میں موٹاپے کا مؤثر ترین علاج ثابت ہوسکتی ہے۔

چوہوں پر تجربات کے دوران اس دوا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چکنائی میں نمایاں طور پر کمی کی۔

ماہرین کے مطابق، یہ دوا ’’نیوروپیپٹائیڈ وائی‘‘ (این پی وائی) کو کام کرنے سے روکتی ہے جس کی وجہ سے چربی گھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے اور موٹاپے میں کمی واقع ہوتی ہے۔
بتاتے چلیں کہ ’’این پی وائی‘‘ (NPY) کہلانے والا پیپٹائیڈ ہمارے مرکزی اعصابی نظام سے خارج ہوتا ہے اور کئی طرح کے جسمانی افعال میں کردار ادا کرتا ہے۔

علاوہ ازیں، اگر جسم میں ’’این پی وائی‘‘ کی مقدار بڑھ جائے تو اس سے بھوک زیادہ لگتی ہے جو خوب کھانا کھانے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔ اسی کے ساتھ ساتھ خلیوں میں چربی گھل کر کم ہونے کا عمل سست پڑ جاتا ہے جو موٹاپے میں اضافے کی وجہ بنتا ہے۔

اس کے برعکس ’’این پی وائی‘‘ کی کم مقدار، بھوک میں کمی کا باعث بنتی ہے جبکہ اس سے خلوی چربی گھل کر ختم ہونے کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔

’’این پی وائی‘‘ ایک خاص پروٹین ’’وائی ون‘‘ (Y1) سے منسلک ہو کر اپنا کام کرتا ہے اور خلیے پر اثرانداز ہوتا ہے۔

سائنسدانوں نے ایک ایسی دوا ایجاد کی جو ’’این پی وائی‘‘ کو ’’وائی ون‘‘ سے جُڑنے نہیں دیتی۔ انہیں امید تھی کہ اپنی اسی کارگزاری کی وجہ سے یہ دوا چربی اور موٹاپا ختم کرنے میں بھی مفید ثابت ہوگی۔

ابتدائی طور پر اس دوا کی آزمائش چوہوں پر کی گئی جنہیں سات ہفتوں تک روزانہ چکنائی سے بھرپور غذا کھلائی گئی۔

آزمائش کی غرض سے ان چوہوں کے دو گروپ بنائے گئے: ایک کو چکنائی والی غذا کے ساتھ ساتھ یہ دوا بھی دی جاتی رہی جبکہ دوسرے گروپ کو یہ دوا نہیں دی گئی۔

سات ہفتوں کے بعد معلوم ہوا کہ چکنائی سے بھرپور غذا کے ساتھ دوا لینے والے چوہوں کے وزن میں اضافہ، دوسرے گروپ والے چوہوں کی نسبت 40 فیصد کم رہا۔

ان تجربات کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ اس دوا کا اثر صرف چکنائی والے خلیوں تک محدود رہا جبکہ دیگر جسمانی خلیے اس سے متاثر نہیں ہوئے۔

اگرچہ یہ تجربات بہت امید افزاء ہیں لیکن فی الحال یہ ابتدائی نوعیت کے ہیں۔ اگلے مرحلے میں اس دوا کو چربی والے انسانی خلیوں پر آزمایا جائے گا اور کامیابی کی صورت میں اس کی محدود پیمانے پر انسانی آزمائشیں شروع کی جائیں گی۔

اگر سب کچھ ٹھیک رہا اور ہماری توقعات کے مطابق ہوا تو امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ آٹھ سے دس سال میں ہمارے پاس ایک ایسی دوا موجود ہوگی جو موٹاپے میں نمایاں کمی لائے گی لیکن اس کے منفی اثرات بھی کم سے کم ہوں گے۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں