چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث 40 افراد کے 100 سے زائد بینک اکاؤنٹس منجمد

چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث 40 افراد کے 100 سے زائد بینک اکاؤنٹس منجمد
Spread the love

لاہور: ایف آئی اے نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں چینی کی ذخیرہ اندوزی اور سٹہ مافیا کے 40 سرکردہ ارکان کے 100 سے زائد بینک اکاؤنٹس منجمد کرادیئے۔

ایف آئی اے کے مطابق چینی کے سٹہ مافیا نے 100 سے زائد جعلی اور بے نامی اکاؤنٹس بنا رکھے تھے۔ یہ مافیا سستی چینی اپنے مقرر کردہ ریٹس پر مہنگی داموں فروخت کر کے غریب عوام کے ساتھ سنگین ترین مالی فراڈ کررہا تھا۔

ایف ائی اے کے مطابق سٹہ مافیا نے غریب عوام کی جیبوں سے 110 ارب نکال لیے، سٹہ مافیا کے خفیہ اثاثوں کی چھان بین کا آغاز کردیا گیا اور اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی 20 ٹیمیں متحرک ہیں جبکہ ان سٹہ مافیا سے برآمد ہونے والے لیپ ٹاپ اور موبائل فون سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ پڑھیں : ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان نے 9 شوگرملز کو بلیک لسٹ کردیا

ایف آئی اے کے مطابق جن افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں ان میں ملک عابد، اسد پرویز بٹ، شیخ ساجد محمود، طحہٰ بٹ، خرم شہزاد بھٹی، خرم شہزاد، محمد ندیم، شیخ محمد طفیل، شیخ محمد عمران، طفیل، سہیل صفدر بٹ، مجتبیٰ لون، جنید مولوی ظہیر، وقاص اشرف، اویس علی، شیخ قمر سلیم، عامر آصف، راشد، مرزا محمد ندیم اشرف، مستنصر ظہور، مرزا اسلم، مرزا افضل، اسد حسین، عامر وحید، فضل احمد، ماجد ملک، ملک زاہد، سفیان ملک، فرقان بابا، اسلم بجلی، شیخ منظور شہزاد، محمود بھٹی، مشتاق پراچہ، آصف پراچہ، عمر صلاح الدین بٹ، فیصل ضیا بٹ شامل ہیں۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزمان کا نام بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا جا رہا ہے، ملزمان پر چینی کی سٹہ بازی سے 110 ارب روپے زائد کمانے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ چینی اسکینڈل کے معاملے پر شوگر ڈیلرز کے گھروں پر رات گئے ایف آئی اے نے چھاپے مارے اور گھروں سے ریکارڈ قبضے میں لے لیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ چھاپوں کے دوران شوگر ڈیلرز اور اہل خانہ کے موبائل فونز لے لیے گئے، لیپ ٹاپ، سی سی ٹی وی کیمرے، ڈی وی آر ریکارڈ حاصل کرلیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں