نوزائیدہ بچوں میں دل کے امراض کی جینیاتی وجہ دریافت

نوزائیدہ بچوں میں دل کے امراض کی جینیاتی وجہ دریافت
Spread the love

نیویارک: دنیا میں آنکھ کھولنے والے بچوں کی بڑی تعداد پیدائشی طور پر کسی نہ کسی نوعیت کےعارضہ قلب کے شکار ہوتی ہیں۔ اب ایک جین کا انکشاف ہوا ہے جس میں خرابی اس کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔

فاسفولائپیز ڈی ون (مختصراْ پی ایل ڈی ون) ایک اہم جین ہے جس میں خرابی یا متاثر ہونے سے دل کے دائیں جانب موجود والوو متاثر ہوتا ہے اور بچوں میں ایک طرح کا مرض پیدا ہوجاتا ہے جسے’نیونیٹل کارڈیو میوپیتھی‘ کہتے ہیں۔

جرنل آف کلینکل انویسٹی گیشن کے مطابق بچوں میں پیدائشی طور پر جتنے نقائص ہوتے ہیں، ان میں 33 فیصد کا تعلق قلبی خرابیوں سے ہوتا ہے۔ ان میں دل کے خانے یعنی والوو کی خرابی سرِفہرست ہوتی ہے۔
اسٹونی بروک یونیورسٹی کے رینے ساں اسکول کے پروفیسر مائیکل فرومان اور ان کے ساتھی گزشتہ 25 برس سے پی ایل ڈی ون پر تحقیق اور اس کی کلوننگ کررہے ہیں۔ اب انہوں نے معلوم کیا ہے کہ اگر اس جین میں کوئی خرابی ہوجائے تو اس کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کا دل اور اس کے والوو متاثر ہوسکتے ہیں۔

پی ایل ڈی ون ایک اینزائم (خامرے) کی طرح کام کرتا ہے اور یہ سگنل خارج کرتا ہے کہ کس طرح خلیات مختلف ہارمون کی صورت میں برتاؤ کرتے ہیں۔ اسی طرح اعضا کی تشکیل ہوتی ہے۔ گزشتہ 25 برس کی تحقیق کے بعد اب اس جین کا بچوں میں قلبی بیماریوں کے تعلق کا انکشاف ہوا ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے پی ایل ڈی ون جین متاثر ہونے سے دائیں جانب موجود دل کا والوو اور وینٹریکل متاثر ہوتا ہے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ یہ جین دل کی تشکیل اور نشوونما پر اثرا انداز ہوسکتا ہے۔

لیکن یہ حقائق 2700 کے قریب دل کے مریض نومولود بچوں پر تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ بعض بچوں میں یہ جین والدین سے منتقل ہوا تھا اور ماں کے پیٹ میں ہی دل کی نشوونما پر اثرانداز ہوا تھا جس میں مدتِ حمل کا ساتواں ہفتہ بہت اہم قرار دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں