صحرا میں دو دلوں کی مانند ’جھیل الفت‘ خلا سے بھی نظر آتی ہے

صحرا میں دو دلوں کی مانند ’جھیل الفت‘ خلا سے بھی نظر آتی ہے
Spread the love

دبئی: اگرچہ دبئی فلک بوس عمارتوں، شجر کے شکل والے جزائر اور دیگر دلچسپیوں سے بھرا ہوا ہے لیکن اب اس میں القُدرہ نخلستان کا اضافہ ہوچکا ہے جو اس طرح بنایا گیا ہے کہ دو دل آپس میں مل رہے ہیں۔ اسے ’محبت کی جھیل‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔

بلندی سے دیکھیں تو دو دل بہت چھوٹے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت یہ انسانی کاوش کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کا رقبہ ساڑھے پانچ لاکھ مربع میٹر ہے۔ اپنے سکون اور اور دلفریب مقام کی وجہ سے یہ محبت کرنے والوں کے لیے ایک بہترین مقام ہے۔ اسی لیے اس کا نام ’محبت کی جھیل‘ بھی رکھا گیا ہے۔ اپنی ساخت کی بنا پر یہ جھیل خلا کی بلندی سے بھی دکھائی دیتی ہے۔

اسے شہری ہنگاموں سے دور ایک ریگستان میں انسان کے تیارکردہ نخلستان کی صورت دی گئی ہے۔ جھیل سے تاحدِ نظر ریت ہی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پانی اور تعمیراتی سامان کی رسائی پر بے تحاشہ رقم خرچ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 16000 درخت اور کئی اقسام کے لاتعداد پھول اگائے گئے ہیں۔ پھر بیگونیا پودے اگاکر ان سے Love کا لفظ بھی بنایا گیا ہے۔

اگرچہ اس کا افتتاح 2018 میں ہوچکا تھا لیکن اب یہاں مزید سہولیات پیش کی گئی ہیں۔ حال ہی میں دبئی کے شیخ حمدان محمد بن راشد المختتوم نے اس کی فضائی تصویر بھی شیئر کی ہے۔ تاہم سیاح اگر اس کی اصل ساخت کو دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں کم سے کم 50 میٹر بلند ہونا پڑے گا تاکہ وہ جھیل کا دل والا ڈیزائن دیکھ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں