آزادکشمیر کو لوڈشیڈنگ فری زون بنا کر سستی بجلی فراہم کی جائے:رشید ترابی

int 004

int 005آزادکشمیر حکومت کے پبلک سروس کمیشن، این ٹی ایس ، عدلیہ میں میرٹ پر تقرریاں اور حکومتی اخراجات میں کمی بہترین اقدامات ہیں
گلگت کوصوبہ بنانے کے حوالے سے میں نہیں سمجھتا کہ چین کی کوئی ایسی خواہش ہے، سی پیک ایک بہترین منصوبہ ہے ،امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر و ممبر قانون ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی کا کشمیر ٹائمز کو خصوصی انٹرویو
(انٹرویو:محمد ارشد ثانی،حسیب شبیر چوہدری)
امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر و ممبر قانون ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے،ہم چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی عوام کو بھرپور حقوق ملیں تاکہ ان میں کوئی بھی احساس محرومی نہ رہے مگر کوئی ایسا اقدام نہیں ہونا چاہیئے کہ جس سے اقوام متحدہ کی قراردادیں متا ثر ہوں اورمسئلہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت متاثر ہو ۔اس وقت مقبوضہ کشمیر میں تحریک عروج پر ہے اور اس پر ہونے والی پیش رفت سے بھارت دفاعی پوزیشن پر ہے ایسے میں بھارت پر دباؤ مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔دفتر خارجہ نے 3سالوں میںمسئلہ کشمیر یا کشمیر پالیسی کے حوالے سے کشمیری قیادت سے کوئی مشاورت نہیں کی،دفتر خارجہ میںایک مستقل فوکل پرسن یا نائب وزیر خارجہ کا تقررہونا چاہیے جو مسئلہ کشمیر پر کام کر سکے۔گلگت بلتستان ایشوایکٹ 74میں مجوزہ آئینی ترامیم میں پائی جانے والی کنفیوژن کو ختم کرنے کے لیے فی الفورآل پارٹیز کانفرنس بلا ئی جانی چاہیے ۔پاکستان کو مسلہ کشمیر کے حوالہ سے بہترانداز میں پیش رفت کیلئے پہلے خود طے کر نا ہو گا کہ ہم نے بھارت کیساتھ تعلقات کس سطح تک رکھنے ہیں۔ سی پیک کے حوالہ سے گلگت کو صوبہ بنانے کے حوالہ سے چین کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے چین پہلے بھی آزاد کشمیر میں ہائیڈرل پراجیکٹس پر کام کر رہا ہے ۔تحریک آزادی کشمیر خالصتاً کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے ،مسلہ کشمیر پر جماعت اسلامی کا کردار ہر دور میں واضح رہا ہے،آزاد کمشیر سے بجلی پیدا ہوتی ہے اس لئے آزاد کشمیر کو لوڈشیدنگ فری زاون بنا کر سستے داموں بجلی فراہم کی جائے۔ پرویز مشرف کے فارمولے نے مسئلہ کشمیر کو بہت نقصان پہنچایا تھا
،مقبو ضہ کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر جب فیصint 001لہ کن مراحل میں ہے اس وقت کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جس سے تحرک آزادی کو کوئی نقصان ہوآزاد کشمیر کی موجودہ حکومت اس سے قبل آنے والی حکومتوں کی نسبت بہتر انداز میں مسلہ کشمیر پر اقدامات کر رہی ہے۔صدر آزاد کشمیر سرداد مسعود خان اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اپنے دائرہ کار کے مطابق مسلہ کشمیر پر کام کر رہے ہیں،جماعت اسلامی کے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ اتحادکے ثمرات عوام کو ملنا شروع ہوگئے ہیں ،وزیر اعظم آزاد کشمیرنے جماعت اسلامی کی مشاورت سے ایسے اقدامات اٹھائے جس سے کرپشن میں خاطر خواہ کمی ہوئی ،کمیونٹی انفراسٹکچر پروگرام بھی قابل تحسین ہے ،کابینہ کا حجم چھوٹا رکھ کر وزیر اعظم نے غیر ضروری اخراجات کم کیے ،پی ایس سی کے لیے نیک نام افسران لیے گئے ،یہ ایسے کام ہیں جو جماعت اسلامی کے اہداف میں شامل تھے ،تاہم آزاد کشمیر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کر کے لوڈ شیڈنگ فری خطہ قرار دیا جانا چاہیے ،ہم کہتے ہیں کہ منگلا ڈیم کی رائیلٹی بھی ملنی چاہیے بلکہ وفاقی حکومت کوآزاد کشمیر کے لیے فنڈز کی فراخدلانہ فراہمی کویقینی بناتے ہوئے آزاد کشمیر کی عوام کے احساس محرومی کو ختم کیا جائے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ کشمیر ٹائمز کے دفتر آمد پر خصوصی گفتگوکے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ گلگت کو صوبہ بنانے کے حوالہ سے وفاقی اور آزاد کشمیر حکومت نے ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے،گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے،ہم چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھرپور حقوق ملیں تاکہ ان میں کوئی بھی احساس محرومی نہ رہے مگر کوئی ایسا اقدام نہیں ہونا چاہیئے کہ جس سے اقوام متحدہ کی قراردادیں متا ثر ہوں اور نقصان دہ ثابت ہوں۔کسی بھی پیش رفت سے قبل کشمیری اور حریت قیادت سے مشاورت کرنے کے بعد ہی فیصلہ کر نا چاہیے۔
int gr 003حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر ،کشمیر پالیسی اور ایکٹ74میں آئینی ترامیم سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کروائے جس میں تمام کشمیری قیادت کو اکھٹا کر کے مشاورت کی جائے اگر حکومت پاکستان اس میں تاخیر کر رہی ہے تو آزاد کشمیر حکومت کو اس پر اے پی سی بلا کر مشاورت کرنی چاہیے ۔برٹش پارلیمنٹ میں قرار داد حق خودارادیت منظورہونا خوش آئند ہے،ہندوستان اس وقت دفاعی پوزیشن پر ہے اس پر مزید دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کشمیری سیاسی قیادت کی اپنی کمزوری ہے کہ کسی جماعت کا تنظیمی دائرہ کار گلگت بلتستان میں اس مظبوطی سے قائم نہ ہے اور نہ ہی گلگت کے عوام سے رابطے میں ہیں جماعت اسلامی آزاد کشمیر واحد جماعت ہے کہ جس کا سیٹ اپ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موجود ہے اور عوام سے رابطے میں ہے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو آئینی لحاظ سے مضبوط کیا جائے۔مشترکہ صدر،سپریم کورٹاورکشمیر اور گلگت بلتستان کونسل کو ملا کر سینٹ کی طرز پر مشترکہ ایوان بالا قائم کیا جانا چاہیے۔آزاد کشمیر اور گلگت دونوں کو صوبہ بنائے بغیر تمام تر حقوق دے کر احساس محرومی ختم کرنی چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کیخلاف اور مسئلہ کشمیرپر کردار کے حوالے سے کشمیری عوام پوری طرح سے مطمئن نہیں، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیرخارجہ ہوناچاہئے۔ مگر وزیرخارجہ نے بہت سے امور کودیکھنا ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک فوکل پرسن ہو جو نائب وزیرخارجہ جو صرف مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کام کرسکے۔ دفتر خارجہ نے تین سالوں میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشمیری قیادت سے کوئی مشاورت نہیں کی ۔ حکومت پاکستانکی جانب سے پارلیمنٹ اور کشمیر کمیٹی میں جس سطح پرکشمیر کے حوالے سے آواز بلند کرنے کی ضرورت تھی اس سطح پر کام نہیں ہوا ۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ صدر اور وزیراعظم آزادکشمیر اپنے دائرہ کار کے مطابق مسئلہ کشمیر پراچھاکام کررہے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے اس سے قبل رہنے والی حکومتوں کی نسبت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بہتر اقدامات اٹھائے ہیں
int 004۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے پاکستان کو پہلے خود سطح کا تعین کرناہوگاکہ تعلقات کس سطح تک رکھنے ہیںتو ہی مسئلہ کشمیر پربہتر انداز میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔ عرب ممالک ، او آئی سی اور رابطہ عالم اسلامی کشمیریوں کے موقف کی تائید کرتے ہیں جب بھی تعاون طلب کیا بھرپور حمایت حاصل رہی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے چین کا کوئی دباؤ نہیں ہے کہ گلگت کوصوبہ بنایاجائے یہ غلط تاثر ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ چین کی کوئی اس طرح کی ڈیمانڈ ہے ۔ سی پیک ایک بہترین منصوبہ ہے ۔ سردار سکندر حیات کی تجویز کومدنظر رکھ کر سڑک کی تعمیر کی جائے تاکہ پورا آزادکشمیر اس سے مستفید ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے حکومت سے اتحاد کے حوالے سے جو اہداف تھے کافی حد تک کامیابی ہوئی ہے میرٹ اور انصاف کے حوالے سے جو پیش رفت ہوئی اسی طرح مسئلہ کشمیر پر موجودہ حکومت بہتر اقدامات اٹھارہی ہے۔ پبلک سروس کمیشن، این ٹی ایس ، عدلیہ میں میرٹ پر تقرریاں ، حکومتی اخراجات کی کمی کے معاملات میں جماعت اسلامی حکومتی اقدامات سے مطمئن ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر کے آئینی اصلاحات کی جانی چاہئیں آزادکشمیر سے بجلی پیدا ہوتی ہے ، جبکہ ضرورت کے مطابق آزادکشمیر کو بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔ آزادکشمیر کو لوڈشیڈنگ فری زون بنا کر سستی بجلی فراہم کی جانی چاہئے۔ ایکٹ 74کی ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر کے ایکٹ 74کی بعض شقوں میں پائی جانے والی کنفیوژن کو ختم کر کے اس پر پیش رفت کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو بھرپور حقوق ملنے چاہئیں مگر ایسا کوئی اقدام درست نہیں ہے جس سے اقوام متحدہ کی قراردادیں متاثر ہوں اور تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچے ۔ تحریک آزادی کشمیر خالصتاً کشمیریوں کی تحریک ہے اور مسئلہ کشمیر سے متعلق جماعت اسلامی کا کردار اور موقف ہمیشہ واضح رہا ہے ۔