گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا مطلب ہندوستان کے ایجنڈے کی تکمیل ہے،سردار عتیق

17841997_1459030950805359_239344601_nاسلام آباد(انٹرویو:محمد ارشد ثانی،شاہد اعوان،رپورٹ:حسیب شبیر چوہدری)صدر آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ نواز لیگ کی حکومت کا ایجنڈا تقسیم کشمیرہے،مسلم کانفرنس الیکشن ہارے یا جیتے پاکستان کی حکومتوں کو کشمیر کے حوالہ سے ہمیشہ غلط فیصلہ کرنے سے روکا ہے،کشمیر کے تشخص اور وحدت سے متعلق ہر گز کسی کو غلط فیصلہ کا اختیار نہیں دیںگے،اس وقت کوئی قومی کشمیر پالیسی موجود نہیں ہے،ہر دور میں مسلم کانفرنس کو توڑنے کی کوشش اس لئے کی جاتی رہی ہے کہ ریاستی تشخص کو کمزور کیا جا سکے ،گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا مطلب ہندوستان کے ایجنڈے کی تکمیل ہے،نواز حکومت کے وزیر دفاع حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دے کر بھارتی حکومت کی زبان بول رہے ہیں اور کلبوشن یادیو جو مستند بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ ہے اس کا نام تک نہیں لیا جاتا ۔میں حافظ سعید کو پاکستان کا بہترین اور محب وطن شہری سمجھتا ہوں۔آزاد کشمیر کی تاریخ میں دو انتخابات بدترین دھاندلی زدہ تھے جن میں ایک 1975میں اور دوسرا 2016میں ہوا اور دونوں دھاندلی زدہ الیکشن کروانے کی خاص بات یہ تھی کہ 1975میں ذوالفقار علی بھٹو آزاد کشمیر کو صوبہ کا درجہ ۔وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نریندر مودی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے چیف  دینا چاہتے تھے جبکہ 2016میں میاں نواز شریف گلگت بلتستان کو صوبے کادرجہ دینا چاہتے ہیں

17821006_1459030910805363_1679157071_nاجیت دوول کے استقبال کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں جنہوں نے اے پی ایس کے بچوں کو قتل کروایااور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا۔ سی پیک کے حوالہ سے موجودہ حکمرانوں نے عوام میں کنفیویژن پیدا کی ہوئی ہے سی پیک کو شروع کرنے والے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان تھے اور سی پیک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں مکمل ہو گا،اس میں سیاسی قیادت کا کوئی کردار نہیں ہے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کو دو تہائی اکثریت دلوانے کا واحدمقصد تقسیم کشمیر ہے،ہم نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں یہ بات واضح کر دی تھی لیکن اس وقت عوام نے ہماری باتوں کو انتخابی مخاصمت سمجھا لیکن اب ہماری باتوں کو حقیقت کا روپ مل رہا ہے۔مجاہد اول کی زندگی عزم و ہمت ،دلیری ،شجاعت اور قائدانہ کردار پر مشتمل تھی وہ خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے، جنہوں نے ایک گاؤں سے زندگی کا آغاز کیا اور پاکستان کے سب سے بڑے سٹاف کالج کوئٹہ میں 13لیکچرز دینے کا اعزاز حاصل کیا۔کسی کالج سے تعلیم حاصل کئے بغیر انگریزی اس روانی اور بہترین تلفظ سے بولتے تھے کہ انگریز بھی ان کے قدر دان تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ یہ ہم سے بہتر انگریزی جانتے ہیں۔ایکٹ 74 کی بعض شقوں کو تبدیل کرنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ آزاد کشمیر کو کسی وقت بھی صوبے کا درجہ دینے میں آسانی ہو۔مسلہ کشمیر علاقائی یا سر حدی تنازعہ نہیں ہے یہ ایک کروڑ 20 لاکھ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسلہ ہے جوکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں روزنامہ کشمیر ٹائمز کے پینل کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا،اس انٹرویو کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے یوم پیدائش کے موقع پر مجاہد منزل میں کیا گیا ہے ۔جس میں انہوں نے مجاہد اول کی زندگی کے متعلق بعض خفیہ گوشوں کوسامنے لایا۔ مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کو اللہ پاک نے بڑااچھا موقع دیا تھا ان کو 15ماہ جہاد کرنے کا موقع ملا اور خاص بات یہ تھی کہ سیز فائر تک انہیں کسی بھی جگہہ ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا یہ بڑی بات ہے کہ جس عمر میں انہوں نے جہاد کیا اس عمر میںبہت کم لوگوں کو یہ اعزاز نصیب ہوتا ہے۔ دنیا میں محمد بن قا سم یادیگر جر نیلوں کاذکر کیا جاتا ہے تو ان کے پیچھے بہت بڑے بڑے طاقتور لوگ تھے

17841836_1459030834138704_2110599146_nلیکن مجاہد اول کے پیچھے کوئی بڑی ہستی یا ذہن موجود نہیں تھا۔آزادی کے وقت پاکستان کی فوج کا کمانڈر ان چیف ایک انگریز تھا اورجوائنٹ چیف بھی انگریز تھا اور وہ دہلی میں بیٹھتا تھا ۔ اس انگریز چیف نے پاکستان فوج کی کمانڈ بھی کسی مسلمان کے بجائے انگریز کمانڈر کے حوالے کی چونکہ پاکستان نوزائیدہ ملک تھا اس لئے وہ فوج کشمیر بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ ایسے حالات میں مجاہد اول نے تحریک شروع کی جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی مجاہد اول کی پندرہ ماہ سول فوج کی کمانڈ میں عین اسلامی طرز جہاد کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے کسی غیر مسلم،سکھ ،ہندو،مرد و زن کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی بلکہ ان کو احترام کیساتھ ہندوستان بھجوانے میں کردار ادا کیا۔ جیسا کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران مختلف لوگوں کے خلاف مقدمات چل رہے ہیںکہ ان جنگوں میں شریک لوگوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ بداخلاقی اور بدسلوکی کامظاہرہ کیا ۔ مگر مجاہد اول نے پندرہ ماہ کے جہاد کے دوران جن لوگوں نے اپنی آبائی زمینیں، جائیداد اور مکانات چھوڑے ان لوگوں نے بھی مجاہد اول کی وفات پر یعنی ہندوؤں اور سکھوں نے بھی جموں میں سوگ منایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ بھی بدسلوکی نہیں کی۔ سول آبادی کیخلاف کوئی ایسااقدام نہیںکیا صرف فوج کے ساتھ لڑے ۔ جبکہ تیسری بات یہ تھی کہ جب اعلان نیلا بٹ اور 14جولائی1947ء کو جوقراردا غازی ملت سردار ابراہم خان کے سرینگر میںگھر پاس ہوئی اس کو برقرار رکھتے ہوئے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ دیا۔ نیلا بٹ سے ایک باوقار مذاحمتی وعکسری تحریک کی بنیاد رکھی ، اس علاقے کو نظریاتی اعتبار سے ہندوستان کے خلاف بازو شمشیر زن بنادیا ۔جوپاکستان قائد اعظم نے بنا کر دیا تھا اس کو پاکستان کی قیادت تو سنبھال نہ سکی اور مشرقی پاکستان الگ ہوا مگر مجاہد اول نے جو کشمیر آزاد کروا کر دیا اوراس سے آگے چل کر کرنل مرزا حسن نے گلگت بلتستان آزاد کروایا۔ وہ علاقہ آخری وقت تک پاکستان کے ایک مضبوط دفاعی حصار کے طور پر آج بھی قائم ہے ۔ مجاہد اول کو اللہ پاک نے اس بات کی کہ توفیق دی کہ آزاد کشمیر میں عوام کو پہلی بار حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع دیا گیا اس وقت مجاہد اول کو کئی لاکھ کی برتری حاصل ہوئی۔ اس الیکشن میںغازی ملت سردار ابراہیم خان ، کے ایچ خورشید نے بھی حصہ لیا تھا۔ْمجاہد اول نے اللہ کے کر م سے کئی لاکھ کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی اس وقت پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو صدارتی نظام کے تحت منتخب ہوئے تھے اور آزادکشمیر میں سردار عبدالقیوم منتخب ہوئے تھے ۔مجاہد اول کو حکومت کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا لیکن آزادکشمیر میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس میں قادیانیوں کی جان ومال اور عزت وآبرو کو کوئی خطرہ ہوا ہو ۔ آزاد کشمیرسعودی عرب کے بعد اور عجمی دنیا کا پہلا مسلمان ملک ہے جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ایک موقع پر
ذوالفقار علی بھٹو جب سوشلزم نافذ کررہے تھے اس وقت مجاہد اول نے آزادکشمیر میں مفتیوںاور قاضیوں کو عدالتوں میں بٹھایا اور شریعت کورٹس بنائیں۔ جس کو نواز لیگ کی حکومت اب ختم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اس وقت کی مجاہد اول کی قائم کردہ شریعت کورٹس آج بھی موجود ہیں ۔ جمعہ کی چھٹی اور آزادکشمیر میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا ۔ ملیشیاء کی شلوار قمیض کو قومی لباس قرار دیا ۔آزاد کشمیر میں بہترین سول سروسز کا سٹریکچر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیات کا محکمہ کیا اور سردار حبیب خان مرحوم آف کو راولاکوٹ کو پہلا ڈویلپمنٹ کمشنر مقررکیاآزادکشمیر میں اس سے قبل سر کاری افسران کی ترقی 18 ویںگریڈتک ہوتی تھیاس سے آگے کوئی گریڈ نہیں ہوتا تھا اس کی بڑی وجہ یہ تھی اس وقت آزاد کشمیر کے معاملات وفاقی
جوائنٹ سیکرٹری امور کشمیر دیکھتا تھا جس کا گریڈ 19واں تھا ۔ مجاہد اول نے آزاد کشمیر کے ملازمین کو پاکستان کے ملازمین کے برابر 19واں 20واں، 21واں اور 22واں گریڈ دیااور سرکاری گزٹ میں آج بھی ان چاروں گریڈ کے سامنے محمد عبدالقیوم خان لکھا ہوا ہے ۔ یہ چاروں گریڈ مجاہد اول نے آزادکشمیر کی سول سروسز کو دئیے ۔ مجاہد اول نے جہاں کشمیر پر بہت سی کتابیں لکھیں وہیں پر انہوں نے ایک تاریخ ساز کتاب لکھی جس کا نام ( فتنہ انکار سنت) ہے۔ اس کتاب کو تمام مذہبی فرقوں نے برے اچھے الفاظ میں سراہا اور اس کو بہترین کاوش قرار دیاگیا، مشہور دانشور پروفیسر ڈاکٹر یعقوب ہاشمی نے کہا کہ یہ کتاب چودہ سو سال میں اس موضوع پر لکھی گئی بے پناہ اہمیت کی حامل کتب میں سے ایک کتاب ہے۔ اسی طرح مجاہد اول نے جموں وکشمیر کے عوام کی نظریاتی آبیاری کی یہی وجہ ہے کہ وہ آج دنیا میں موجود نہیں لیکن ان کا نعرہ کشمیر بنے گا پاکستان بچے بچے کی زبان پر ہے۔آزاد کشمیر میںمختلف نعرے ایجاد کئے گئے جن میں اس وقت صرف دو ہی نعرے باقی ہیں ایک کشمیر بنے گا خود مختار اور دوسرا کشمیر بنے گا پاکستان کانعرہ ہے اور یہ نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ مقبو ضہ کشمیر کے عوام کامقصد بن چکا ہے۔ انہون نے کہا کہ مجاہد اول نے کشمیر ریجمنٹ کی بنیاد رکھی جی ایچ کیو پاکستان کی ہسٹری سیکشن کی کتاب کشمیر وار 1947-49میں ایک تصویر ہے اس میں جی ایچ کیو کا ہسٹری سیکشن کشمیر ریجمنٹ کو قیوم بریگیڈ لکھتا ہے ۔ مجاہد اول کی ساری زندگی کامیاب جدوجہد کی عبارت تھی ۔ مجاہد اول تحریک آزادی کشمیر کا اتنا طاقتور مورچہ تھے جن کو ان کی زندگی میں چھیڑا نہیں جاسکتا تھا، ہم ان کے ہی راستے پر ہیں مگر ان کے مقابلے میں کمزور لوگ ہیں مجاہد اول نے پوری دنیامیں مسلہ کشمیر کو متعارف کروایا۔ برٹش پارلیمنٹ میں 1986ء میں کراس پارٹی کشمیر کمیٹی بنائی بے نظیر بھٹو کے دورمیں او آئی سی کشمیر گروپ بنایا۔ رابطہ عالمی اسلامی کے مستقل ممبر کی حیثیت سے سعودی عرب نے آج سے کئی سال پہلے پیس فل ریزولیشن کی ٹرم استعمال کی اور انٹرا کشمیر کااعلان کیا یہ بات انہوں نے 1978-79میں رابطہ عالم اسلامی اجلاس میں کی ۔ جس وقت دنیا میں یہ اصطلاحات ہی موجود نہیں تھیںجو انہوں نے اس وقت متعارف کروائیں ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے میں 18ماہ راولپنڈی جیل میں غداری کے مقدمے میں گرفتار رہے اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں بھی قید اور سنگین سازشوں کاشکار رہے ۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں 18ماہ قید رہے جبکہ بعد میں ضیاء الحق کو احساس ہوا اور ضیاء الحق غازی آباد گئے جہاں انہوں نے اس بات کی تلافی کی ۔ مجاہد اول نے کشمیر کے اندر نظریاتی استحکام پیدا کیا۔ آزادکشمیر کو ایک تشخص دیا۔ اس میں غازی ملت سردار ابراہیم خان کا بھی بانی رہنماء کے طور پر بنیادی کردار رہا ۔ کے ایچ خورشید صاحب کا بھی اپنا ایک الگ مقام ہے ۔مجاہد اول کی علمی اور ادبی سطح پر 12سے 15کتب تیار ہو کر مارکیٹ میں موجودہیں باقی کچھ تیار ہورہی ہیں جن کی تعداد 150سے 200ہے ۔ مجاہد اول کی بے شمار خط وکتابت دنیا بھر میںموجود ہے۔ انہوں نے پوری دنیا کے تھنک ٹینکس سے خطاب کیا ۔ سٹاف کالج کوئٹہ میں مجاہد اول کی 11سے13تقاریر ہیں ۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی نہایت سادگی سے گزاری ۔ انہیں اردو ، عربی ، فارسی ، انگریزی سمیت سات سے آٹھ زبانوں پر عبور حاصل تھا اور وہ سیلف ٹاٹ شخص تھے جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت علم حاصل کیا قیدو بند اور تحریک کے دوران خود سے مطالعہ کتب کر کے علم حاصل کیا ۔ انہوں نے میدان جہاد میں نماز ترک نہیں کی ۔ تولی پیر اور حاجی پیر کی تصاویر بھی موجود ہیں جہاں وہ جماعت کروارہے ہیں ۔ اس طرح ان کا تصوف کے ساتھ گہرا لگاؤ تھا مجاہد اول شاہ فیصل مرحوم کے زمانے سے لے کر 40 سال تک رابطہ عالم اسلامی کے ممبر رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کی دعوت پر حج کے موقع پر میں وہاں گیا تھا ۔ وہاں سرکاری لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کے مواقع ملے جبکہ ابھی رابطہ اسلامی کی جانب سے اسلامی احکامات کی روشنی میں اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے سیمنار میں شرکت کی۔ سعودی عرب کا کمال یہ ہے کہ سعودی عرب میں 70کی دہائی میں آزادکشمیر کو 30سکالر شپ دئیے جاتے تھے جب کہ پاکستان کو صرف 6سکالر شپ دئے جاتے تھے جس پرمولانا کوثر نیازی نے سرکاری حیثیت سے جا کر سعودی حکومت سے شکایت کی کہ سعودی گورنمنٹ نے چھوٹے سے علاقے کیلئے 30 اورہمارے لئے چھ سکالر شپ رکھے ہیں جس پر اس وقت کی سعودی حکومت نے کہا کہ علاقہ چھوٹا ہے لیکن وہاں کا لیڈر بہت بڑاہے ۔مجاہد اول کے زمانے میں ایک بہت بڑا سیاسی بحران پیدا ہوا جب پاکستان میں قومی اتحاد کی قیادت مفتی محمود کررہے تھے ان کے اورذوالفقار علی بھٹو صاحب کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہواتو پورے پاکستان میں گرفتاراور غیر گرفتار قیادت کے حوالہ سے بات کی گئی کہ مذاکرات کون کرے گا تو نام مجاہد اول کا نکلا ۔ بھٹو صاحب کو بتایا گیا کہ وہ تو ڈیڑھ سال سے ہماری قید میں ہیں اور وہ مذکرات کروانے کیلئے کیسے تیار ہو ں گے تو جب مجاہد اول سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ قومی دلچسپی کے معاملے میں خدمت کیلئے تیار ہوں ۔ عجیب اتفاق دیکھیں کہ قومی اتحاد اور ذوالفقار بھٹو دونوں کیلئے بیک وقت جو شخص قابل قبول نکلا وہ مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان تھے ۔ یہ ایک معروف بات ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا کہ میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے تنگ ہوںاور میں اگر ریٹائرمنٹ کے بعد کسی جماعت میں شامل ہوا تو وہ آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس ہی ہو گی مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان عہدساز لیڈر ہیں اور میں انہیں اپنا پیر ومرشد تسلیم کرتا ہوں ۔ مسلم کانفرنس الیکشن جیتے یا ہارے پاکستان کی حکومتوں کو کشمیر کے حوالے سے غلط فیصلے کرنے سے ہمیشہ باز رکھا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ مسلم کانفرنس کے لوگوں نے ماریں کھا ئیں مگر کشمیر کے حوالے سے غلط فیصلہ نہیں ہونے دیا مجاہد اول کا پاکستان بھر کے اندر بہت بڑا اثر رسوخ تھا اور عالمی سطح پر ان کی بات سنی جاتی تھی ان کے زمانے میں بھی مسلم کانفرنس کو بری طرح ہرانے کی کوششیں کی گئیں ۔ سٹیت کونسل کے الیکشن میں بھی مجاہد اول ایک ووٹ سے الیکشن جیتے تھے ۔ ہر زمانے میں مسلم کانفرنس کو توڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔مسلم کانفرنس کے اندر سے آزاد مسلم کانفرنس ، لبریشن لیگ تحریک عمل ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی بھی بنوائی گئی ۔ اس طرح ن لیگ بھی مسلم کانفرنس کے ہی اندر سے بنوائی گئی مسلم کانفرنس کو ہر زمانے میں کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں فرق صرف یہ تھا کہ پہلے یہ کام پیپلزپارٹی اوراس کے ہمنواء لوگ کرتے تھے اور ابھی یہ کام مسلم لیگ ن نے میاں نوازشریف کی قیادت میں شروع کیا ہے اور مقصد صرف یہ ہے کہ کشمیر ی عوام کی آواز کو کمزور کیاجائے اور اس کے مقابلے میں ہندوستان کو آسانی دی جائے کشمیر پالیسی کے متعلق سوال کے جواب میں سردار عتیق نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی قومی کشمیر پالیسی موجود نہیں ہے کشمیر پالیسی کا تعلق 2باتوں سے ہے تحریک آزادی کشمیر کی بنیادوں سے شروع ہو تی ہے ۔ اس کاتعلق قرار داد الحاق پاکستان سے شروع ہوتا ہے جو آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس نے پاس کی یہ قرارداد اس وقت پاس ہوئی جس وقت ریاست جموںوکشمیر کے مسلمانوں کی سو فیصد نشستیں ہمارے پاس تھیں یعنی 21نشستیں ہمارے پاس تھیں اور ہم سواد اعظم تھے یہ پاکستان بننے سے پہلے پاس ہوئی ہے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی حکومت ہم پر اثر انداز ہوئی ہے ۔ دوسرا اعلان نیلا بٹ اور تیسر ااقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظرمیں دیکھیں تو وہ کشمیر پالیسی ہے ۔ اس کشمیر پالیسی کے تحت ریاست جموںوکشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست ہے جس میں آزادکشمیر، گلگت بلتستان ، لداخ ، جموں ، سری نگر اور یہ سارے علاقے شامل ہیں ایک تو ریاست کا حدود اربعہ قرارداودوں میں نظر آنا چاہئے اور پھر ریاست کے عوام جن میں ہر وہ باشندہ جس کے پاس ریاست جموں وکشمیر کا باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ ہے جس میںمہاجرین اور تارکین وطن بھی شامل ہیں اس پر کوئی جگھڑا نہیں ہے کشمیر پالیسی وہ ہونی چاہئے جس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا لحاظ اور رہنمائی موجود ہو اور جموںوکشمیر کے عوام کی خواہشات کو نظر انداز نہ کیاجائے اور دوسرا وہ پالیسی ہے جس کو پہلے سرکاری سطح پر دیکھاجاتا رہا ہے اب تو کوئی کشمیر پالیسی نہیں ہے اب تو نواز حکومت کی پالیسی کشمیر پالیسی کے بجائے تقسیم کشمیر پالیسی دکھائی دیتی ہے اور اگر یہ خدانخواستہ گلگت کو صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں اس کے بعد بھارت لداخ کو فوری طور پر الگ حیثیت دے دے گا ہندوستان نے اس وقت تک خیال رکھا ہے بے شک تحریک کے دباؤ سے رکھا ہے یا عالمی برادری کے خیال سے رکھا انہوں نے صوبہ نہیں بنایا ۔ ۔ صدر اور وزیراعظم کو وزیراعلیٰ اور گورنرکہا ہے لیکن صوبہ نہیں بنایا آزادکشمیر کا جوماڈل ہے صدر اور وزیراعظم ، سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ اور پارلیمنٹ ہے یہ ہی ریاست جموںوکشمیر کا حقیقی ماڈل ہے ۔ اسی لئے ہم اسے ریاست جموںوکشمیر کی آزاد حکومت کہتے ہیں دوسرا یہ کہ گلگت بلتستان کے معاملے میں نوازشریف حکو مت کا جو اقدام ہے وہ اگر صرف گلگت بلتستان کیلئے ہوتا تو اس کے بارے میں ہم کوئی اچھی یابری تا ویل کرتے تو کوئی گنجایش موجود تھی ۔ لیکن نوازشریف صاحب اور ن لیگی قیادت ، وزیراعلیٰ پنجاب اور پالیسی میکرز کو اگر غور سے دیکھیں تو پھر واقعات درپردہ ایسے لگتے ہیں کہ جو ترتیب سے دیکھیں تو سب کے سب آپ کو پاکستان کے خلاف اور ہندوستان کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ مثلاً لیڈر آف اپوزیشن کی حیثیت سے سیاہ چن گئے تو اس وقت گیاری کا واقعہ ہوا تھا جہان انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہاں سے فوجیں ہٹانی چاہئیں یعنی یہ بات سوچے یا جانے بغیر کہ قبضہ ہندوستان نے کیا ہے یا پاکستان نے ؟ پاکستان تو اپنی پوزیشن سے آگے نہیں گیا وہ اپنی پوزیشن پر موجود ہے اس کے بعد انہوں نے لاہور میں انڈین ٹی وی کو الیکشن کے دوران انٹرویو دیا اور کہا کہ میں کارگل کی انکوائری کراؤں گا اور اسے ہندوستان کے ساتھ شیئر کروں گا ۔ تیسری بات انہوں نے الیکشن سے پہلے کہی کہ آئندہ جو چیف ہے اس کو مشاورت سے میرٹ پر اپنے اختیارات استعمالکر کے لاؤں گا یہ بات ہندوستان کے ٹی وی پر کہنے کی کیاضرورت تھی ۔ آپ کے آئینی حقوق ہندوستان ٹی وی پر دکھانے کی کیا ضرورت تھی ؟ یہ میں کوئی الزام نہیں لگا رہا میاں صاحب کی ٹی وی سٹیٹ منٹ ہے ۔ بطور وزیراعظم سیفما کے اجلاس میں کہا کہ ہماری شکیلیں ایک جیسی ہیں اور نام بھی ایک جیسے ہیں تو پتہ نہیں لائن کس نے ڈال دی ۔ انہوں نے دو قومی نظریے کی نفی کردی میاںشہبازشریف ٹی وی انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ہماری معیشت کمزور ہوئی تو مجھے ڈر ہے کہ ہم اپنا نیوکلیئیر پروگرام کیسے جاری رکھ سکیں گے۔ انہوں نے مخالف قوتوں کو یہ کیاپیغام دیا ہے ۔ کلبوشن یادیو گرفتار ہوا کسی فورم پر نوازشریف اور ان کے وزارء اس کانام لینے کیلئے تیار نہیں ہیں ان کے وزراء کو آئندہ ہفتے کی خبر نہیں اور وزیرمنصوبہ بندی سی پیک پر چار مرتبہ بریفنگ دے چکے ہیں اور ہفتے بعد کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ اس لئے شروع کیاگیا ہے اور روٹ تبدیل ہوا کہ اس میں کچھ مسائل تھے۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ وزیر دفاع حافظ سعید کا زکر دنیا میں کرتے ہوئے خوش ہوتے ہیں کہ ہندوستان ان کو دہشتگرد کہتا ہے مگر میں ان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین محب وطن اورشہری قرار دیتا ہوں ۔ حافظ سعید کی این جی او کو بہترین این جی او قرار دیتا ہوں وہ کشمیریوں کے محسن ہیں اور کشمیریوں کی تحریک میں بہت بڑی اخلاقی قوت ہیں ۔ ان کی جو اخلاقی حمایت کشمیریوں کو حاصل ہے۔ وہ عملی طور پر کچھ کریں یا نہ کریں پاکستان میں کشمیریوں کیلئے ایک موثر آواز ہیں ۔ ہمارے وزیردفاع حافظ سعید کو تو دہشتگرد کہتے ہیں مگر کلبھوشن یادیو کانام نہیں لیتے اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ثبوت ابھی کافی نہیں ہیں آنے والے وقت میں ثبوت مہیا کریں گے ۔ وزیراعظم پاکستان نوازشریف نریندر مودی اور را کے چیف اجیت دوول کو ایئر پورٹ سے لاتے ہیں اورمیاں صاحب اسے اپنے لئے یہ بڑا اعزاز سمجھتے ہیںکہ جنہوں نے اے پی ایس میں بچے مارے، کوئٹہ میں پولیس والے مارے،لاہور کے پارک میں عیسائیوں اور مسلمانوں کو مارا جو را پاکستان کے چپے چپے پر دھماکے کروا رہی ہے اور بلوچتسان کو علیحدہ کرنے کااعلاان کرتی ہے جو افغانستان سے حملے کر نے کی کوشش کرتی ہے یہ ان سارے لوگوں کو عزت سے یاد کرتے ہیں اور کسی طرح بھی ہندوستان کیخلاف بات نہیں کرتے وزیراعظم پاکستان پانچ فروری کو کشمیر میں جا کر تقریر میں کہتے ہیں کہ میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تعمیروترقی سے متاثر ہوں اور اسی طرح کی تعمیر وترقی آزادکشمیر میں بھی کرناچاہتا ہوں یہ بیان یہ تقریر وہ ٹی وی پر کرتے ہیں ۔ یہ جو صوررتحال ہے ن لیگ کے وزیرخزانہ آزادکشمیر میں کہتے ہیں کہ یہ صوبہ نہیں ہے ہم یہاں کچھ نہیں کرسکتے ہیں آزادکشمیر کی تاریخ میں 1975ء کے الیکشن مین بدترین دھاندلی ہوئی تھی جو پیپلزپارٹی نے کی تھی اور اس سے بھی بڑھ کر جو دھاندلی ہوئی ہے وہ آزادکشمیر کی تاریخ میں وہ نوازشریف نے حالیہ الیکشن میں کی ہے ۔ تمام وسائل خرچ کر کے الیکشن جیتا اور ن لیگ کی حکومت بنا کر اپنا وزیراعظم بنایا اور اب ان کے وزیر خزانہ اپنے ہی بنائے ہوئے وزیراعظم اور اپنی جماعت کے صدر کو کہتے ہیں کہ یہ صوبہ نہیں ہے اس لئے ہم پیسے نہیں دے سکتے ۔ یعنی ان کا مطلب یہ ہے کہ پیسہ لینے کیلئے پہلے آزادکشمیر حکومت ہندوستان کے ایجنڈے کی تکمیل کرے۔ ہندوستان کی خواہش ہے کہ آپ پہلے ایسے کام کریں جو وہ خود نہیں کرسکتا آپ کے کھاتے میں ڈال کر اس کے جواب میں وہ بھی کرسکے ۔ ۔ ہندوستان نے آبی جارحیت کی ہے

17841997_1459030950805359_239344601_nاس پر بھی پاکستان کی حکومت خاموش ہے یہ جو واقعات ہیں جو میں نے گنوائے ۔ یہ دیکھ لیں پھر جب کبھی پاکستان نے میاں نواشریف پر دباؤ بڑھایا ہے تو ایک دم اے پی ایس سکول واقع ہوگیا۔ توجہ ہٹانے کیلئے اسی طرح لاہور اور کوئٹہ کا واقع ہو گیا یہ میں نہیں کہتا کہ میاں صاحب کرواتے ہیں میں کوئی الزام نہیں دے رہا ۔ یہ کہتا ہوں کہ یہ واقعات ہیں جو میں آپ کو گنوا رہا ہوں ۔ یہ تجزیہ نگاروں ، تاریخ دانوں کاکام ہے کہ وہ فیصلہ کریں یا پالیسی میکرز کاکام ہے کہ اس پر بات کریں یا اس حوالے سے فیصلہ کریں۔ نواز شریف رائیونڈ میںبھارتی را چیف اجیت دوول اور نریندر مودی کے ساتھ الگ بیٹھتے ہیں اس ملاقات میں نہ اپنا ڈی جی آئی ایس آئی ہے نہ جی ڈی ایم آئی ہے اور نہ ڈی آئی بی جو ان کا اپنا بھرتی کیا ہوا جس کو ریٹائرمنٹ کے بعد ایکسٹنشن بھی دی ہوئی ہے وہ بھی نہیں ہے اور اپنا کوئی پارٹی کا آدمی بھی موجود نہیں ہے گویا نواز لیگی حکومت پاکستان کو ہندوستان کے مزاج اور مرضی کے مطابق چلاناچاہتی ہے ۔ معرکہ کارگل جو ہمارا سب سے بڑا معرکہ تھا ہمارے غازی اور مجاہدین جنہوں نے بھارت کی ساری انٹیلی جنس قوتوں کو ناکام بنا کر ایسی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا تھا جہاں سے ہندوستان شارٹ گن فائر پر آگیا تھا اور ایک ہفتہ سے زیادہ کا اس کے پاس راشن پانی بھی موجود نہیں تھا اگر میاں نوازشریف سرنڈر نہ کرتے تو اس کے بعد ہندوستان کو مجبوراًکشمیر پر بات کرنا پڑتی یا نیوکلیئر جنگ ہوجاتی ۔ ان کشیدہ حالات میں امریکہ، روس سمیت تمام ممالک بیچ میں پڑ کر بھارت کو اس بات پر مجبور کرتے کہ وہ کشمیر ایشو پر بات کرے۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نوازشریف کی حکومت کے سابقہ معاملات کو ساتھ ملا کر دیکھاجائے تو واضح نظر آتا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کر کشمیر کی وحدت کو تقسیم کرناچاہتے ہیں ۔ پاک چین سرحدی معاہدے میں بھی فیلڈ مارشل ایوب خان نے طے کیاتھاکہ یہ جو علاقے ہیں ان علاقوں کے مستقبل کاحتمی فیصلہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے ساتھ کشمیری قیادت کرے گی گویا کہ اقصائے چین کاعلاقہ ریاست جموںوکشمیر کا حصہ تسلیم کیاگیا ۔ یہ تو 1962-63کی بات ہے ۔ چین کی حکومت سری نگر کے کشمیری طلبہ کو جو ویزے دے رہی ہے وہ ہندوستانی پاسپورٹ کے بغیر دے رہی ہے چین کے سفارتخانے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی پاسپورٹ سے آزادکردیا ہے ، چین نہ صرف پاکستان کابہترین دوست ہے وہ کشمیرکے معاملے میں پاکستان سے بڑھ کر ہمارا ساتھ دے رہا ہے۔ لیکن میاں محمد نوازشریف کی حکومت کشمیریوں کے دلوں سے چین کی محبت ختم کرنے کیلئے غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے ۔ سی پیک کے معاملے پر حکومت پاکستان چین کے معاملے میں غلط تاثر پھیلا کر پاکستان اور چین کی کوئی خدمت نہیں کررہی بلکہ نوازشریف کی حکومت سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ چین کے ماہرین صدیوں تک کا سفر طے کرچکے ہیں ، اور چینی ماہرین نے طے کررکھا ہے کہ اگلے 15سے20سال کے درمیان وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہوںگے ۔ اور ڈالر کے مقابلے میں چینی کرنسی کو فروغ دے رہے ہیں ۔ میرا اور میری پارٹی آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کا موقف یہ ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموںوکشمیر کا حصہ ہے ۔اقوام متحدہ کی قراردادوں میں جس کشمیر کازکر کیا ہے اور جونقشہ یونائیٹیڈ نیشن میں دیاگیا ہے ، اس نقشے کے مطابق آزادکشمیر ، سری نگر ، جموں، اقصائے چین،گلگت بلتستان اور لداخ کشمیر کاحصہ ہیں ۔ یہ ہم نہیں کہتے حکومت پاکستان نے سرکاری طور پر اقوام متحدہ میں جو نقشہ جمع کروایا ہے اس نقشے میں یہ تمام مقامات کشمیر کاحصہ بنائے گئے ہیں۔ اور اسی طرح ہندوستان نے جو نقشہ اقوام متحدہ میں دیا ہے اس نقشے میں بھی یہی علاقے کشمیر کاحصہ ہیں انہوں نے کہا کہ پچھلے سال میاں محمد نوازشریف نے اقوام متحدہ میں جا کر قراردادوں پر زور دیا ۔ لیکن اب وہ کیوں اس سے فرار حاصل کر ناچاہتے ہیں ۔اگر پاکستان کشمیر کے سرکاری نقشے کی حیثیت تبدیل کرے گا تو ایسی صورت میں بھارت فوری طور پر اقوام متحدہ جائے گا اور وہاں جا کر واوویلا کرے گا کہ پاکستان نے بطور فریق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو خراب کردیا ہے اور اس لئے ضرورت ہے کہ اب نئی قرارداد لائی جائے اور اس مجوزہ قرارداد میں گلگت بلتستان ، آزادکشمیر ، جموں ، سری نگر،لداخ میں الگ الگ استصواب رائے طلب کی جائے گی ۔ جس کی بھارت تیاری کرچکا ہے ۔جس کے تحت بھارت سری نگر میں6لاکھ خاندانوں کو باہر سے لا کر آباد کرے گا اس طرح 30لاکھ ووٹوں کااضافہ ہوجائے گا اور سری نگر کی آبادی بڑھا کر اس کو صوبے کاد رجہ دے دے گا ۔ جموںاور لداخ کی حیثیت بھی تبدیل کردے گا جب کہ دوسری جانب میاں محمد نوازشریف کا یہ پروگرام ہے کہ وہ مہاجرین جموںوکشمیر کو ووٹ کا حق دینے سے محروم کرے گا ۔ اس کے بعد آزادکشمیر سپریم کورٹ اور اسمبلی کے ذریعے یہ 20لاکھ ووٹوں کی کمی جبکہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کر مزید 10لاکھ ووٹ کم ہوجائیں گے ۔ میاں نوازشریف مودی کے ایجنڈے کو تکمیل کی جانب لے جارہے ہیں ۔ کشمیر کی اکائی اور مہاجرین کے ووٹوںکو ختم کر کے 30سے 35لاکھ ووٹ یہاں سے کم کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت بن رہی تھی تومیں نے اس وقت کہا تھا کہ گلگت بلتستان کے بعد آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے قیام کا مقصد ہی تقسیم کشمیر ہے اس وقت لوگ انتخابی نعرہ سمجھ رہے تھے ۔ لیکن آج ہمارے وہ خدشات درست ثابت ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے متعلق لوگوں کو مس گائیڈ کیاجارہاہے ۔ سی پیک منصوبے کے خالق فیلڈ مارشل محمد ایوب خان تھے یہ ان کا ویژن تھا ۔ اٹامک انرجی کمیشن کا ویژن بھی ایوب خان نے دیا تھا ۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے اس کو پروموٹ کیا ، جنرل ضیاء الحق نے باضابطہ طور پر ایٹم بم بنایاجب کہ نوازشریف نے اس کا دھماکہ کیا ۔ جنرل (ر)پرویز مشرف نے کنٹرول اینڈ کمانڈ کا بہترین سسٹم بنایا اس سسٹم کے بارے میں امریکی محکمہ دفاع نے بھی کہا کہ ہم ابھی تک پاکستان سے بہتر کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم نہیں بناسکے۔ اور یہ بات واضح رہے کہ فیلڈ مارشل محمدایوب خان نے جب شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا معاہدہ چین سے کیا اسی وقت سی پیک کی بنیاد پڑ گئی تھی ۔ پرویزمشرف اور آصف علی زرداری کے زمانے میں اس میں کام ہوتا رہا اور اب موجودہ دور حکومت میں پاک فوج اس کو تکمیل کی جانب لے جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ اگرسی پیک پاکستان کی موجودہ حکومت کا ویژن ہوتایا اس کو مکمل کرنے میں ان کا کوئی کردار بھی ہوتا تو جب گوادر پورٹ کاافتتاح ہوا تو اس وقت وزیراعظم پاکستان نے افتتاحی تختی کا پردہ اٹھایا تو اس پر نام میاں نوازشریف کی بجائے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا تھا اس واقعے سے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ سی پیک کو مکمل کرنے والا کون سا ادارہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بنیاد ایک قابل جرنیل فیلڈ مارشل ایوب خان نے رکھی ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بطور وزیر خارجہ پاک چین تعلقات میں اضافہ کیا ، اس کے بعد جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے زمانے میں مزید پیش رفت ہوئی ۔ سی پیک کی بنیاد فوجی جنرل نے رکھی اور تکمیل کے مراحل میں بھی تختی فوجی جرنل کے نام کی لگی ۔ اور اب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں پاک آرمی اس پر پہرہ دے رہی ہے سی پیک فوجی قیادت کا ویژن اور تسلسل ہے ، سیاست دانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے آزادکشمیر میں درجنوں نئے منصوبے لگ رہے ہیں ۔ شونٹر ٹنل کی ابتداء میں نے 2005ء میں وزیراعظم بننے سے پہلے کی تھی جب میں بجٹ کمیٹی کاچیئرمین تھا اور 4کروڑ روپے ابتدائی طور پر اس ٹنل کیلئے رکھے تھے ۔ اور اب2015 ء میں اس پر کام ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں سی پیک کے ذریعے ری فارسٹریشن ، ساحل کنزرویشن ، ٹورزم ،ٹیکنیکل ایجوکیشن، ہائیڈروپار، سولر لائیٹ، روڈ کنسٹرکشن، کپیسٹی بلڈنگ، لینگویج انسٹی ٹیوٹ کے قیام اور دیہی سڑکیں وراستے شامل ہیں۔ سی پیک جو 50ارب روپے سے شروع ہوا ہے یہ 150ارب روپے تک جائے گا ۔ یہ صرف ہمارے لئے اکنامک گیم چینجر نہیںبلکہ دفاع، معاشی ، اقتصادی ، علاقائی ، بین الاقوامی ، بری اور بحری گیم چینجر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں غیر ریاستی جماعتوں کو لانے کا بڑا مقصد یہ تھا کہ کشمیر کو نظریاتی طور پر کمزور کیاجاسکے ۔ غیر ریاستی سیاسی جماعتوں نے آزادکشمیر کے عوام کو دی جانے والے تعلیم ، صحت اور دوسرے منصوبوں میں سے پیسوں کو کاٹ کر کارکنوں میں تقسیم کیاجارہاہے۔ قائداعظم نے آزادکشمیر میں مسلم لیگ قائم کرنے کی بجائے مسلم کانفرنس کو ہی مسلم لیگ قرار دیا تھا تاکہ یہاں پر دو قومی نظریہ کاتسلسل قائم رہے ۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا اور پاکستان کی ایک سیاسی جماعت مسلم لیگ ن نے یہ سب کچھ ختم کر کے آزادکشمیر میں اپنی برانچ کھول کر بھارت کو بیل آؤٹ کرنے کا پروگرام بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ 74میں بعض ایسی ترامیم کی جارہی ہے کہ جن کی روح سے کل ان کو صوبہ بنانے میں آسانی ہو ۔
سردار عتیق احمد خان نے مسلم کانفرنس کی کشمیر پالیسی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان مسلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو جاری رکھنے اور استصواب رائے کروانے کیلئے ہر قسم کی امداد اور اقدامات کرے جبکہ بین الاقوامی قانون کا واضح کا اصول بھی پاکستان کو یہ حق دیتا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی بھرپور اور ہر قسم کی حمایت کرے اس ضمن میں ہمیں کسی معذرت خواہی کی ضرورت نہیں ہے،بھارت نے جو اقدامات مسلہ کشمیر کو الجھانے کیلئے کئے ہیں ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ان کو پیش نظر رکھ کر حکمت عملی مرتب کی جائے،مسلہ کشمیر کو دو طرفہ تعلقات سے نکال کر عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔مسلہ کشمیر نہ تو علاقائی یا سر حدی تنازعہ ہے اور نہ ہی دو طر فہ تعلقات کامعاملہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت کا معاملہ ہے۔