مقبوضہ کشمیر میں احتجاج حکومت کی تبدیلی کیلئے نہیں، کشمیریوں کی تقدیر سازی کیلئے ہے ، میر واعظ عمرفاروق

11کشمیر بھارت کے مذاکرات کے کسی ڈرامے کا حصہ نہیں بنیں گے ، تمام کشمیری لیڈرز گھروں پر نظر بند یا قید ہیں ، سرکاری ٹی وی کو انٹرویو
سری نگر(ثناء نیوز ) کل جماعتی حریت کانفرنس (انصاری گروپ ) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والا احتجاج حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ کشمیریوں کی تقدیر سازی کے لیے ہے جب پریشر آتا ہے بھارت مذاکرات کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور جب پریشر کم ہو تا ہے تو کہتا ہے کشمیر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں کشمیری بھارت کے مذاکرات کے کسی ڈرامے کا حصہ نہیں بنیں گے تمام کشمیری لیڈر ز گھروں پر نظر بند یا قید ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرکاری ٹی وی سے انٹرویو میںکیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارت کے مذاکرات کے ڈراموں کو جان چکے ہیں اور اب اس فریب میں نہیں آئیں گے کشمیریوں نے 2004 ء سے 2006 ء تک پاکستا ن اور بھارت سے مذاکرات کا عمل شروع کیا لیکن حالات ٹھیک ہونے پر بھارت آٰ گے بڑھنے کی بجائے پیچھے ہٹ گیا انہوں نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے گھر پرنظر بند ہوں جس کی وجہ سے کشمیر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ بھی ادا نہیںکی جا سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ مذاکرات کی باتیں کررہا ہے بھارتی میڈیا بھی بھارتی حکومت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں لکھ رہا ہے انہوں نے کہا کہ جب مذاکرات ہو رہے تھے تو کشمیری لیڈر وں نے کوئی مشکل شرائط نہیں رکھی تھیں بلکہ بھارت سے آرمڈ فورسز سپیشل ایکٹ ختم کرنے ،بھارتی فوج کا کشمیر سے انخلاء شروع کرنے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن بھارت آگے بڑھنے کی بجائے مزید پچھے چلا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ مزید تیز کردیا ہے تمام کشمیری ر ہنما جن میں سید علی گیلانی ، شبیر شاہ ، نعیم خان اور یاسین ملک گرفتار ہیں یا گھروں پر نظر بند ہیں انہوں نے کہا کہ جب بھارت پر دباؤ آتا ہے تو وہ مذاکرات کی باتیں کرتا ہے اور جب دباؤ کم ہو تا ہے تو کہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں صرف مراعات اور اقتصادی مفادا ت کا مسئلہ ہے