مقبول بٹ شہید کی سیاسی فکر و حکمت عملی

14مقبول بٹ شہید کے ساتھ میرا رابطہ و تعلق اس وقت پیدا ہؤا جب ان کے چند نظریاتی ساتھیوں کے علاوہ کسی کو ان کے نظریات اور ایام اسیری کی خبر اور پرواہ نہیں تھی۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہؤا جب میں نے انہیں 1982ء میں اس وقت خط لکھا جب میرا زیادہ تر وقت ہالینڈ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے درمیان سفر میں گزرا کرتا تھا۔
ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ان کے مستقبل کی راہ متعین یا ان کی زندگی کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہؤا۔ میں نے ابھی بلوغت کی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ ہالینڈ اپنے بڑے بھائی نذیر راجہ کے پاس چلا گیا۔ وہاں سب سے پہلے میں نے ڈچ زبان سیکھی۔ پھر مشرقی و مغربی زندگی کے درمیان توازن کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ میری خوش نصیبی تھی کہ ہالینڈ سکول جانے کی وجہ سے مجھے زیادہ تر اچھے مقامی انسانوں سے واسطہ پڑا جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ مگر ساتھ ساتھ اپنی اسلامی روایات کو بھی قائم رکھا جس کے لئے اس غیر اسلامی اورآزاد معاشرے میں بڑی جد و جہد کی ضرورت تھی۔ ہالینڈ سے میں جرمنی گیا جہاں ان دنوں لندن سے ایک ہفت روزہ اخبار وطن شائع ہؤا کرتا تھا۔ وہ اتنا اچھا اخبار تھا کہ میں خصوصی طور پر کئی میل کا سفر طے کرکے ایک دکان سے خریدنے جایا کرتا تھا۔ ٹرین پر میں اخبار وطن کی سرخیاں دیکھتا جا رہا تھا کہ میری نظر ایک معصوم چہرے والی تصویر پر پڑی۔ یہ مقبول بٹ شہید کی چودہ سالہ بیٹی لبنی تھی جس کے انٹرویو کا عنوان تھا : کشمیری میرے ابو کی جان بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
اخبار وطن کے ایڈیٹر چناری سے تعلق رکھنے والے علی کیانی تھے جو راجہ ممتاز راٹھور کی مختصر حکومت میں بیرون ملک کشمیریوں کے نمائندہ کی حیثیت سے کابینہ میں شامل تھے۔ انہوں نے اس انٹر ویو میں ایسی جان ڈالی کہ اپنے پاپا کی جان بخشی کے لیے لبنی بٹ کی چیخ و پکار نے میرے اندر کے کشمیری کو جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میں بے چین ہو گیا۔ میرے پاس مقبول بٹ کی جیل کا مکمل پتہ نہ تھا۔ اخبار کے مطابق وہ نیو دہلی کی تہاڑ جیل کی کال کوٹھڑی میں پھانسی کے منتظر تھے۔ پہلی فرصت میں میں نے مقبول بٹ کو خط لکھا لفافہ پر صرف مقبول بٹ تہاڑ جیل نیو دہلی لکھ کر پوسٹ کر دیا۔ میرا کسی ایسے فرد کے ساتھ رابطہ نہ تھا جس سے میں مقبول شہید کا مکمل پتہ حاصل کر پاتا۔ لیکن دو ہفتوں بعد مجھے مقبول بٹ صاحب کا جواب ملا۔ میرا خط مختصر تھا کیونکہ میں پہلے یقین کرناچاہتا تھا کہ آیا میرا خط ان تک پہنچتا بھی ہے یا نہیں۔ مگر بٹ صاحب کا جواب تفصیلی اور انتہائی مشفقانہ تھا۔ میری سوچ و فکر اور توقعات سے زیادہ بلند خیالات و معلومات پر مبنی تھا۔ اس کے بعد ہمار رابطہ قائم ہوگیا۔ ایک دفعہ فرانس سے براستہ جدہ بھارت جانے کی کوشش بھی کی مگر جب جدہ سعودی عرب سے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ لینے لگا تو انڈین ائر لائنز کے سٹاف نے یہ کہہ کر مجھے روک دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والے شخص کو ہم بھارت جانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وہ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر قرار دے رہے تھے۔
بھارتیوں نے مجھے سعودی سیکورٹی کے حوالے کر دیا جن کو بھارتیوں نے میرے خلاف کافی ورغلایا تھا۔ لیکن میں نے سعودی سیکورٹی کو بتایا کہ جس طرح آپ کو اسرائیل فلسطین میں نہیں جانے دیتا اسی طرح بھارت ہمیں اپنے وطن میں نہیں جانے دیتا جس پر اس نے غاصبانہ قبضہ کیا ہؤا ہے۔ یہ سن کر سعودی سیکورٹی کا رویہ ہمدردانہ ہو گیا ۔ انہوں نے مجھے ناشتہ کروایا اور جہاں میں جانا چاہتا تھے وہاں بجھوا دیا۔ فرانس واپسی پر مقبول بٹ کو میں نے دوبارہ خط لکھا۔ برطانیہ میں میری گرفتاری تک ہماری خط و کتابت جاری رہی جس سے بٹ صاحب کے سیاسی نظریات اور مسلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ان کی حکمت عملی جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔
ظلم، جبر، منافقت اور استحصال کے خلاف مقبول بٹ کے سیاسی نظریات سے تو اب ہر خاص و عام کشمیری واقف ہے لیکن ان کی سیاسی حکمت عملی سے سارے کشمیری اب بھی واقف نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مقبول بٹ صرف بھارت کے خلاف مسلح جد وجہد کے حامی تھے لیکن حقیقت میں مقبول بٹ کا خیال تھا کہ کشمیری جہاں جہاں ہیں وہ جبری طور پر منقسم کشمیر کو دوبارہ متحد کرنے کے لئے سیاسی و سفارتی جد و جہد کو پہلی ترجیح دیں۔ البتہ مسلح جد و جہد کے لئے بھی قوم کو تیار ی کرنی چائیے۔ ان کے نزدیک ہر وہ شخص اور ملک ہمارا دشمن تھا اور ہے جو وحدت کشمیر کی بحالی میں رکاوٹ ہے۔ جس میں وہ کشمیری بھی شامل ہیں جن کو میں آج زر پرست کہتا ہوں۔ پہلے میں آرپار کے اقتدار پسندوں کو تحریک آزادی میں رکاوٹ سمجھا کرتا تھا لیکن جوں جوں ہم اپنی جد وجہد میں آگے بڑھے تو پتہ چلا کہ اقتدار کے اسیر کشمیریوں کے علاوہ بھی کچھ ایسے ضمیر فروش ہیں جو صرف زر کی خاطر غاصبوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ لہذا یہ غاصبوں سے بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں۔ اگر یہ زر پرست اور اقتدار پرست افہام و تفہیم کے زریعے راہ راست پر نہیں آتے تو پھر قوم کو ان کے خلاف بھی جد و جہد کرنی ہو گی۔
جموں کشمیرلبریشن فرنٹ کی تحریک نے جب زور پکڑا تو کچھ ایسے لوگ بھی مقبول بٹ کا نام استعمال کرنے لگے جو اپنے فرقہ پرستانہ اور امپورٹڈ نظریات کو بھی مقبول بٹ کے نظریات سے نتھی کرنے لگے۔ قوم آج ایسے لوگوں کے چہرے اچھی طرح پہچان چکی ہے۔ کچھ مولوی صاحبان دعا کرتے ہیں کہ یا اﷲ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی نصیب کر۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ﷲ تعالی نے جن غیر مسلموں کو کشمیر میں پیدا کیا ہے انہیں کہاں بھیجا جائے گا؟ جن کو اصلاح کی توفیق نصیب ہوئی ، وہ اب دعا کرتے ہیں کہ یااﷲ کشمیر کو آزادی نصیب کر۔ دوسرا گرو اشتراکی سوچ کا مالک ہے جو مقبول بٹ کا نام کیش کرواتا ہے۔ لیکن ان کو اپنا قائد نہیں مانتا۔ ہر انسان کو سیاسی مؤقف رکھنے کا حق حاصل ہے لیکن ہمیں ایسے خیالات و نظریات کو مسلہ کشمیر کے ساتھ نتھی نہیں کرنا چائیے جو کشمیری قوم کو مزید تقسیم کرنے کا باعث بنیں۔
مسلہ کشمیر صرف یہ ہے کہ جموں و کشمیر پر غیر ملکی قبضہ ہے جسے ہر صورت میں ختم ہونا چائیے۔ اس کے لئے ہر مسلم و غیر مسلم کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چائیے۔ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے گزشتہ سال تیس ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں جموں کشمیر سے فوجوں کے انخلاء کی تجویز دی تھی۔ ہم بھی روز اول سے یہی مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ نواز شریف اگر اس اعلان کو اپنی قومی پالیسی کا حصہ بناتے تو تو بھات کا اصلی چہرہ خود دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جاتا۔ مگر لگتا ہے کہ پاکستان عالمی فورمز پر اپنا منصفانہ چہرہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر گھر آ کر وہی پرانا دو رخا پن شروع ہو جاتا ہے۔ البتہ مسلہ کشمیر کے حل کی سب سے بڑی ذمہ داری خود کشمیریوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کشمیری لیڈرز ذاتی مفادات قومی مفادات پر قربان کر کے خود متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت جموں کشمیر کو تقسیم نہیں رکھ سکتی۔